کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 602
سوال کرنا ، کسی نفع و نقصان کے لیے انھیں پکارنا یا کسی بھی غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا یا نذر دینا اور چڑھاوے چڑھانا وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿ وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلاَ تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا﴾ [الجن: ۱۸] ’’اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں، پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔‘‘ ایک جگہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ﴾ [النساء: ۴۸] ’’یقینا اللہ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔‘‘ قتل اور گناہ سے گریز: کسی کو ناحق قتل کرنے اور زنا کاری کا ارتکاب کرنے سے گریز کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان افعال کو شرک کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰھًا اٰخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِِلَّا بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا . یُّضٰعَفْ لَہٗ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہٖ مُھَانًا﴾ [الفرقان: ۶۸، ۶۹] ’’اور وہ لوگ بھی (فلاح پانے والے ) ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی ایسے شخص کو قتل کرتے ہیں جس کے ناحق قتل کو اللہ نے حرام قرار دے رکھا ہے اور نہ وہ لوگ زنا کرتے ہیں اور جس نے ان میں سے کسی کام کا ارتکاب کیا وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا، اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب دیا جائے گا اور وہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں مبتلا رہے گا۔‘‘ اس آیت میں جو لفظ ﴿اثَامًا﴾ آیا ہے، اس کا معنیٰ ہے: ’’جہنم کی تہہ میں پایا جانے والا ایک کنواں۔‘‘ ایک حدیث میں ہے: (( لَایَزَالُ الْمَرْئُ فِيْ فُسْحَۃٍ مِنْ دِیْنِہٖ مَا لَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا )) [1] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۸۶۲)