کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 600
(( سُنَّۃُ أَبِیْکُمْ إِبْرَاھِیْمَ )) قَالُوْا: مَا لَنَا فِیْھَا یَا رَسُوْل صلی اللّٰه علیه وسلم؟ قَالَ: (( بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ )) [1] ’’یہ تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں۔‘‘ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان قربانیوں میں ہمارے لیے کیا اجر و ثواب ہے؟ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے۔‘‘ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہما الصلوۃ والسلام کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ وہ اپنے بیٹے کی قربانی پر فوراً تیار ہوگئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی صبر و ہمت کے ساتھ ذبح ہونے پر رضا مند ہوگئے۔ جب اللہ تعالیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آزما کر ارادہ پورا ہوگیا اور وہ عزم بالجزم دکھا چکے اور اپنے بیٹے کو ذبح کرنا شروع کردیا اور صرف گوشت و خون کا مرحلہ ہی باقی رہ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ ایک عظیم قربانی عطا کردی، کیونکہ اللہ نے دیکھ لیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خلت و محبت محض کھوکھلا دعویٰ نہیں بلکہ وہ ایسی سچی محبت ہے جس کا مقابلہ ہی نہیں۔ منیٰ میں حجاج کی اور گھروں میں مسلمانوں کی یہ سب قربانیاں اسی جلیل القدر عمل کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ نماز پر ہمیشگی: اللہ کے بندو! نماز کا خیال رکھو، یہ دین کا ستون ہے اور فحاشی و گناہ اور برائی سے روکنے والی ہے۔ یہ بندے اور اللہ کے مابین ایک عہد ہے، جس نے اس کی حفاظت کی، اس نے اپنے دین کو محفوظ کر لیا اور جس نے اسے ضائع کردیا، وہ دیگر اشیا کو اس سے بھی زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔ قیامت کے دن جب مختلف اعمال کے بارے میں سوال ہوگا تو سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اگر یہ مقبول ہوگئی تو باقی اعمال بھی قبول ہوجائیں گے اور اگر یہی رد کر دی گئی تو پھر اس کے باقی اعمال بھی رد کر دیے جائیں گے۔ [1] مسند أحمد (۴/ ۳۶۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۱۲۷) اس کی سند میں ’’عائذ اﷲ مجاشعی‘‘ اور ’’نفیع بن حارث‘‘ راوی سخت ضعیف ہے۔