کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 599
اللہ تعالیٰ نے سید البشر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انبیا و رسل علیہم السلام کے سلسلے کو ختم فرمایا ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے ملتِ ابراہیم علیہ السلام کے اتباع کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿ ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ﴾[النحل: ۱۲۳] ’’پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی کہ ابراہیم حنیف (مخلص و موحد) کی ملت کی پیروی کریں جو مشرکین میں سے نہیں تھے۔‘‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعتِ اسلامیہ تمام پہلی شریعتوں کی ناسخ ہے، لہٰذا اب دین کے طور پر اللہ تعالیٰ کو اسلام کے سوا دوسرا کوئی دین قبول نہیں ہے، چنانچہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴾ [آل عمران ۸۵] ’’جو شخص اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین تلاش کرے، اس کا وہ دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘ حدیث شریف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ، لَا یَسْمَعُ بِيْ یَھُوْدِيٌّ وَّلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا یُؤْمِنُ بِيْ إِلَّا دَخَلَ النَّارَ )) [1] ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر کوئی یہودی یا نصرانی میرے بارے میں سن لے اور پھر بھی مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘ ملتِ ابراہیم علیہ السلام : مسلمانو! تم لوگ اپنی حقیقی وراثت اور دینِ قیم یعنی ملتِ ابراہیم خلیل علیہما الصلوۃ والسلام اور دینِ خلیلِ الٰہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم ہو اور یہ عید آپ کو ان دو عظیم نبیوں اور اللہ کے خلیلوں کے ساتھ ملاتی ہے۔ اس دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو عبادات مشروع کی ہیں وہ سببِ رابطہ ہیں۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۵۳)