کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 598
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ سے ڈرنے والا اور صاف دل والا کہ جس کے دل میں گناہ ہو نہ بغاوت و سرکشی کا داعیہ ، نہ حسد و بغض اور نہ کینہ و حقد ۔‘‘ عید۔۔۔ تعلیماتِ اسلام کا اعلانِ عام: اللہ کے بندو! عید کے اغراض و مقاصد اور فوائد و حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلامی تعلیمات کا کھلے عام اعلان کیا جائے، مسلمانوں کے بڑے بڑے اجتماعات میں کھلے طور پر اظہار کیا جائے اور سرِ عام ان کی تبلیغ کی جائے، تاکہ نسلِ نو اپنی پرانی نسل سے ان تعلیمات کو اخذ کرسکے، آنے والے لوگ جانے کے لیے تیار بیٹھے لوگوں سے سیکھ سکیں اور ان پر عمل بھی کر سکیں، اس طرح اسلامی تعلیمات دلوں کے نہاں خانوں میں ثبت ہوجاتی ہیں، انھیں ہر چھوٹا بڑا یاد کرسکتا ہے اور ان پر عمل پیرا ہو سکتا ہے، اسی طرح ہر مرد و زن اسے حفظ بھی کریں گے اور اس پر عمل بھی کر دکھائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبۂ عید مشروع فرمایا ہے، وہ اسلام کے بلند احکام اور حکیمانہ قوانین پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسلام کے فرائض و قوانین اور احکام کا ظہور و اعلان ہی ایسی قوت ہے جو اسلام کو قیامت تک قائم و باقی رکھنے والی ہے۔ اسلام کو ایسی بقا و دوام دینے والی ہے جس کے بعد اسے بھلایا جا سکتا ہے، نہ اس میں تغیر و تبدل ممکن ہے، اس کے احکام کی غلط تاویل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس کی تعلیمات سے سرِ مو انحراف کیا جا سکتا ہے۔ عید۔۔۔ تاریخِ امت: مسلمانو! عید الاضحی کا تہوار ایسا ہے جس میں امتِ اسلامیہ اپنے روشن ماضی اور عظیم تاریخ سے ربط حاصل کرتی ہے، امتِ اسلامیہ انتہائی گہری جڑوں والی ہے، اس کائنات کی تاریخ میں تمام زمانوں سے اس کا گہرا ربط و تعلق اور اتصال و واسطہ رہا ہے اور یہ تعلق تب سے ہے جب سے حضرت آدم علیہ السلام نے زمین پر اپنا قدم رنجہ فرمایا ہے، یہ تعلق سابقہ زمانوں میں تب سے چلا آ رہا ہے، جب سے اللہ تعالیٰ نے انبیاے کرام علیہم السلام پر اپنا کلام نازل کرنا شروع فرمایاہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ﴾ [الأنبیاء: ۹۲] ’’یہ تمھاری امت (دینِ توحید) ہے، جو در حقیقت ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں، پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘