کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 593
﴿ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا﴾ [المائدۃ: ۴۸] ’’تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو ، تم سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘ بعض عباداتِ عظیمہ: بعض عبادات مسلمان اس لیے نہیں بجا لا سکتا کہ ان کا تعلق کسی خاص جگہ یا خاص وقت سے ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اسی طرح کی بعض دوسری عبادات بھی مشروع فرمائی ہیں جو ان زمان و مکان کے ساتھ خاص عبادات جیسی ہی ہیں، چنانچہ یومِ عرفہ تو حاجیوں کے لیے عید و اجتماع اور اللہ سے گِڑگڑا کر دعائیں کرنے کا دن ہوتا ہے، جبکہ وہ مسلمان جو حج نہ کر رہے ہوں، ان کے لیے یومِ عرفہ کا روزہ اور اجتماع کی شکل میں عید الاضحی پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔ یہ روزہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ حجاج کرام منیٰ میں قربانی کررہے ہوتے ہیں تو اپنے گھروں میں مقیم لوگ بھی قربانیاں دے رہے ہوتے ہیں۔ غرض خیر و بھلائی اور نیکی کے دروازے کثرت سے کھلے ہوئے ہیں جو بڑے آسان اور وسیع بھی ہیں، تاکہ مسلمان اپنی ابدی و اخروی زندگی کے لیے حسبِ توفیق کثرت سے اطاعات و نیکیاں جمع کرسکے۔ عید۔۔۔ مظہرِ توحید: مسلمانو! عید اسلام کے ان شعائر میں سے ایک ہے جو انتہائی عظمت والے ہیں۔ عید اپنے اندر بہت ہی بلند معانی سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ اس میں عظیم مقاصد اور نادر و بدیع حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں جو انتہائی اعلیٰ معانی کو شامل ہوتی ہیں۔ اسلام میں عید اللہ تعالیٰ کی توحید کا مظہر ہے کہ ہر قسم کی عبادات: دعا و پکار، خوف و رجا، مدد طلب کرنا، استغاثہ کرنا، اس کی رحمتوں کی امیدیں لگانا، اس کی سزاؤں اور عذاب سے ڈرنا، ذبح و قربانی اور نذر و نیاز وغیرہ اس میں شامل ہیں۔ تمام عبادات صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہونی چاہییں جس پر شریعت کی تمام فروع کی بنیاد ہے وہ ہے: ’’لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘‘ کے معنیٰ و مفہوم اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنا، اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کناں ہے: ﴿اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ﴾ [الفاتحۃ: ۵] ’’ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں۔‘‘