کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 591
دوسرا خطبہ خطبہ عید الاضحٰی ( مدینہ منورہ 1422ھ ) امام و خطيب :فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: مسلمانو! حقیقی معنوں میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اسلام کی مضبوط رسی کو پکڑے رکھو، اللہ کا تقویٰ تمھارا بہترین زادِ راہ ہے اور یہی تمھارے لیے اللہ کی طرف جانے کا سامان اور وسیلہ ہے۔ مختلف اقوام کی عیدیں: اللہ کے بندو! ہر امت کی کوئی نہ کوئی عید ہوتی ہے جو کسی مخصوص دن میں آتی ہے اور وہ ان کے عقیدہ و اخلاق اور فلسفۂ حیات کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ بعض عیدیں ایسی ہیں جو وحیِ الٰہی سے بہت دور محض بشری افکار و نظریات کی پیداوار ہوتی ہیں۔ یہ غیر اسلامی عقائد والوں کی عیدیں ہیں۔ اسلامی عیدیں: عید الاضحی اور عید الفطر ایسی عیدیں ہیں جنھیں خود اللہ تعالیٰ نے مشروع کیا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ھُمْ نَاسِکُوْہُ﴾ [الحج: ۶۷] ’’ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ بنا دیا ہے جسے وہ بجا لانے والے ہیں۔‘‘ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ ﴿مَنْسَکاً﴾ کا معنیٰ یہاں عید ہے۔[1] اس طرح اس آیت کا معنیٰ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لیے شرعی عید بنائی ہے۔ یوں عیدالفطر اور عیدالاضحی اسلام کے ارکان میں سے دو رکن بنتے ہیں۔ عید الاضحی عبادتِ حج کے بعد ہوتی ہے اور عید الفطر عبادتِ روزہ کے بعد آتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ [1] تفسیر ابن جریر (۱۷/ ۱۹۸)