کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 59
(( ذَاکَ جِبْرِیْلُ، وَالَّذْي نَفْسِيْ بِیَدِہِ لَوْ تَقَدَّمَ لَأَخَذَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ عُضْوًا عُضْوًا، وَالنَّاسُ یَنْظُرُوْنَ )) [1] ’’یہ جبریل تھے، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر وہ آگے بڑھتا تو فرشتے لوگوں کے سامنے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔‘‘ غزوہ تبوک سے واپسی پر منافقین کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قاتلانہ حملہ ہوا، ایسے ہی عامر بن الطفیل کی طرف سے اور طواف میں فضالہ کی طرف سے ہوا۔ کسی غزوے میں ایک درخت کے نیچے آرام کرتے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ ہوا، صفوان بن صفوان بن امیہ کے بھیجے ہوئے کرائے کے قاتل کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مسجد میں حملہ ہوا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکری کی ایک دستی کو زہر آلود کر کے قاتلانہ حملہ ہوا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بروقت اس کی اطلاع دے دی گئی، بہرحال ان تمام حملوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال توحید اور اپنے اﷲ عزوجل پر توکل و بھروسا کرنے کے سبب اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا لیا۔ اﷲ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: ﴿ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ﴾ [الطلاق: ۳] ’’اور جو کوئی اﷲ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے۔‘‘ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے راستے میں جزیرۃ العرب کے باہر بھی مدد کی ہوائیں چل پڑیں۔ اس سفر کے دوران میں سراقہ بن مالک نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا لیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے قریش کا مقرر کردہ سو اونٹ انعام لینا چاہتا تھا، مگر اس دوران اس کے گھوڑے کی ٹانگین زمین میں دھنس گئیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’اے سراقہ! تب تیری کیا شان ہوگی جب تو کسریٰ کے کنگن پہنے گا؟‘‘ چنانچہ وہ مسلمان ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا ترک کر دیا۔ نبوت کی زبان سے نکلے ہوئے ان کلمات کو سچا ثابت کرنے کے لیے ایران کی فتح کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کو کسریٰ کے کنگن پہنائے۔[2] [1] تفسیر ابن جریر (۱۲/ ۶۴۸) [2] سنن البیھقي (۶/ ۳۵۷)