کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 587
کا ارشادِ گرامی ہے: (( خَیْرُ الدُّعَائِ دُعَائُ عَرَفَۃَ، وَخَیْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِیُّوْنَ قَبْلِيْ یَوْمَ عَرَفَۃَ: لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْر )) [1] ’’بہترین دعا وہ ہے جو یومِ عرفہ میں کی جائے اور میں نے اور مجھ سے پہلے والے انبیاے کرام علیہم السلام نے جو دعائیں کی ہیں، ان میں سے بہترین دعا یہ ہے: (( لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْر )) اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا و یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، تمام بادشاہی اور ہر قسم کی تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ حاجی اپنی زبان کو غیبت و چغلی سے محفوظ رکھے، باطل کلام سے بچے۔ بعض سلف صالحینِ امت کا یہ عالم ہوتا تھا کہ جب وہ احرام باندھ لیتے تو ایسے ہو جاتے جیسے کوئی گونگا ہو، خیر و بھلائی کی بات کے سوا کوئی بات نہ کرتے اور لا یعنی قول و فعل میں تو بالکل دخل نہ دیتے تھے، لڑائی جھگڑوں اور مجادلات و مناظرات سے دور رہتے تھے۔ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ مسنون تکبیرات کا اہتمام کریں جن کا وقت یومِ عرفہ کی نمازِ فجر سے شروع ہوتا ہے اور ایامِ تشریق کے آخری دن (۱۳/ ذو الحج) کی نمازِ عصر تک رہتا ہے۔ حاجی کو چاہیے کہ یومِ نحر (یومِ عید) کو نمازِ ظہر کے بعد تکبیرات کہنا شروع کرے اور ایامِ تشریق کے آخری دن کی نمازِ عصر تک کہتا رہے۔ تکبیراتِ عید یہ ہیں: (( اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ )) [2] ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اور ہر قسم کی تمام تعریفیں صرف اللہ ہی کے لیے ہیں۔‘‘ فضائلِ عشرہ ذوالحجہ: تمام حجاج اور عام مسلمانوں کے لیے مستحب ہے کہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں خیر و بھلائی [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۸۵) [2] مصنف ابن أبي شیبۃ (۲/ ۱۶۵۔ ۱۶۷) نیز دیکھیں: المستدرک للحاکم (۱/ ۳۰۰) إرواء الغلیل (۳/ ۱۲۵)