کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 573
امام ابن رشد رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’کثرت سے قبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آکر کثرت سے سلام کہنا اور ہر روز قبر شریف پر آنا مکروہ ہے، تاکہ قبر شریف کو مسجد کی طرح نہ بنا دیا جائے جس کی طرف نماز کے لیے روزانہ آیا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: (( اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِيْ وَثَنًا )) ’’ اے اللہ ! میری قبر کو پوجا جانے والا بت نہ بنا دینا۔‘‘[1] قاضی عیاض رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ مدینہ منورہ کے کچھ لوگ ہر روز ایک مرتبہ یا اس سے زیادہ بار قبر شریف کے پاس جا کھڑے ہوتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو سلام کرتے ہیں اور گھڑی بھر کھڑے کھڑے دعائیں مانگتے ہیں؟ تو انھوں نے کہا: ’’مجھے ایسا کرنے کے جواز کے بارے میں اہلِ علم میں سے کسی سے کچھ نہیں پہنچا اور اس امت کا آخر اسی عمل سے سدھر سکتا ہے جس سے اس امت کے سلف صالحین کا عمل سنورا تھا اور مجھے سلف صالحینِ امت میں کسی کے بارے میں ایسی کوئی خبر نہیں پہنچی کہ وہ ایسا کرتے ہوں۔‘‘[2] 7۔ مسجدِ نبوی میں جہاں بھی بیٹھے ہوں وہیں سے قبر شریف کی طرف رخ کرکے بیٹھنا اور ایسا ہر وقت کرنا، جب بھی مسجد میں آئیں اور جب بھی نماز سے فارغ ہوں ، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے وقت سروں کو جھکا کر رکھنا اور اپنے ہاتھوں کو اپنی پیشانیوں پر رکھنا ، یہ سب بھی منع اور مشہور بدعات میں سے ہے۔ اللہ کے بندو ! بدعات اور شرعی مخالفات سے گریز کرو اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے اور اندھی تقلید کرنے سے بچو، اپنے عمل کی بنیاد صرف اور صرف دلیل و ہدایت پر رکھو۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ کَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ وَاتَّبَعُوْٓا اَھْوَآئَ ھُمْ﴾ [محمد: ۱۴] ’’بھلا جو شخص اپنے رب کی مہربانی سے روشن اور کھلے راستے پر چل رہا ہو، وہ ان لوگوں [1] البیان والتحصیل لابن رشد (۱۸/ ۴۴۴) [2] الشفا بتعریف حقوق المصطفی (۲/ ۸۸)