کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 572
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( إِنَّ لِلّٰہِ فِي الْأَرْضِ مَلَآئِکَۃً سَیَّاحِیْنَ یُبَلِّغُوْنِيْ مِنْ أُمَّتِيْ السَّلَامَ )) [1] ’’اللہ کے کچھ سیاح فرشتے ایسے بھی ہیں جو میری امت کا مجھے بھیجا ہوا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔‘‘ 6۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کی بار بار اور کثرت سے زیارت کرنا، مثلاً ہر فرض نماز کے بعد یا پھر ہر روز کسی ایک فرض نماز کے بعد زیارت کرنا، یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( لَا تَجْعَلُوْا قَبْرِيْ عِیْدًا )) [2] ’’ میری قبر کو عید گاہ نہ بنا دینا۔‘‘ علامہ ابن حجر ہیتمی نے مشکات کی شرح میں لکھا ہے: ’’عید، اعیاد سے اسم ہے: کہاجاتا ہے: عَادَہٗ، اِعْتَادَہٗ، تَعَوَّدَہُ: صَارَلَہٗ عَادَۃً، یعنی یہ اس کی عادت بن گئی اور حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ میری قبر کو بار بار تکرار اور کثرت سے آنے کی جگہ نہ بنا دو، اسی لیے نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( وَصَلُّوْا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِيْ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ )) [3] ’’مجھ پر صلات و سلام بھیجو، کیوں کہ تم جہاں سے بھی صلات بھیجو گے وہ مجھے پہنچ جائے گی۔‘‘ یہ صلات و سلام کہیں سے بھی پڑھ دیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتا ہے۔ علامہ ابن رشد کی کتاب ’’جامع البیان‘‘ میں ہے: ’’امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کسی دور کے شہر سے آیا ہوا شخص کیا ہرروز قبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آجایا کرے؟ انھوں نے فرمایا: یہ صحیح نہیں ہے اور پھر انھوں نے یہ حدیث ذکر کی: (( اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِيْ وَثَنًا یُّعْبَدْ )) [4] ’’اے اللہ ! میری قبر کو ایسا بت نہ بنا دینا جس کی پوجا اور عبادت ہوا کرے۔‘‘ [1] مسند أحمد (۱/ ۳۸۷) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۰۴۲) [3] مسند أحمد (۶/ ۳۶۷) [4] موطأ الإمام مالک (۱/ ۱۷۲)