کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 567
’’میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس ستون کے پاس ہی نماز پڑھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔‘‘[1] روضۂ شریفہ میں نماز کی حرص کا یہ معنیٰ بھی نہیں کہ دوسرے لوگوں کو اذیت پہنچائی جائے یا کمزور کو دھکے مارے جائیں یا لوگوں کی گردنیں پھلانگی جائیں۔ مسجدِ قبا میں نماز: مدینہ منورہ کے ساکنین اور زائرین؛ سب کے لیے جائز ہے کہ نماز پڑھنے کے لیے مسجدِ قبا میں آئیں، کیونکہ یہ ام القریٰ (مکہ مکرمہ) میں مبعوث ہونے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور عمرے کے ثواب کا باعث ہے۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنْ خَرَجَ حَتّٰی یَأْتِيَ ھٰذَا الْمَسْجِدَ- یعنی: مَسْجِدَ قُبَائَ۔ فَیُصَلِّیْ فِیْہِ کَانَ کَعَدْلِ عُمْرَۃٍ )) [2] ’’جو شخص گھر سے نکلے اور اس مسجدِ قبا میں آئے اور اس میں نماز پڑھے، اسے عمرے کے برابر ثواب ہوگا۔‘‘ اور سنن ابن ماجہ میں ہے : (( مَنْ تَطَھَّرَ فِيْ بَیْتِہٖ ثُمَّ أَتٰی مَسْجِدَ قُبَائَ فَصَلّٰی فِیْہِ صَلَاۃً کَانَ لَہٗ أَجْرُ عُمْرَۃٍ )) [3] ’’جس نے اپنے گھر (رہایش گاہ ) سے وضو کیا اور مسجدِ قبا میں آیا اورا س میں نماز پڑھی تو اسے عمرے کا ثواب ملے گا۔‘‘ جبکہ صحیح بخاری و مسلم میں ہے: (( أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَأْتِيْ قُبَائَ یَعْنِيْ کُلَّ سَبْتٍ کَانَ یَأْتِیْہِ رَاکِبًا وَّ مَاشِیًا )) [4] ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کبھی پیدل اور کبھی سوار ہوکر مسجدِ قبا میں آتے اور اس میں دو رکعتیں ادا کرتے تھے۔‘‘ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۸۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۵۰۹) [2] مسند أحمد (۳/ ۴۸۷) [3] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۴۰۱) [4] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۱۳۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۳۹۹)