کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 565
ہے اور نہ یہ زیارت تکمیلِ حج کے لیے ضروری ہے۔ جتنی احادیث بھی زیارتِ مسجدِ نبوی یا زیارتِ قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مروی ہیں، ان کا حج سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ سب جھوٹی اور من گھڑت ہیں۔ جس نے کہیں سے بھی مسجدِ نبوی اور اس میں نماز ادا کرنے کی نیت سے رختِ سفر باندھا، اس کا یہ عمل و قصد انتہائی مبرور اور اس کی یہ محنت و کوشش انتہائی مشکور ہے، لیکن جس نے رختِ سفر کے وقت نیت ہی قبر کی زیارت اور صاحبِ قبر سے مدد و استعانت کے لیے کی، اس کا یہ سفر ممنوع اور اس کا یہ فعل ناجائز ہے، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ: اَلْمَسْجِدُ الْحَرَامُ، وَمَسْجِدِيْ ھٰذَا، وَالْمَسْجِدُ الْأَقْصٰی )) [1] ’’تین مساجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ کی طرف (ثواب کی نیت سے) رختِ سفر باندھنا جائز نہیں: مسجدِ حرام اور میری یہ مسجد (نبوی) اور مسجدِ اقصیٰ۔‘‘ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّ خَیْرَ مَا رُکِبَتْ إِلَیْہِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدِيْ ھٰذَا وَالْبَیْتُ الْعَتِیْقُ )) [2] ’’وہ مقامات جن کی طرف سواریوں پر سوار ہو کر جایا جائے، ان میں سے بہترین مقامات میری یہ مسجد اور بیت اللہ ہیں۔‘‘ مسجدِ نبوی میں نماز کا ثواب: مدینہ منورہ کی اس مسجد میں علما کے صحیح تر قول کے مطابق فرض و نفل ہر نماز کا ثواب بہت بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( صَلَاۃٌ فِيْ مَسْجِدِيْ ھٰذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سَوَاھُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ )) [3] ’’میری اس مسجد میں نماز کا ثواب دوسری عام مساجد سے ایک ہزار گنا زیادہ ہے، سوائے مسجد حرام کے۔‘‘ [1] صحیح البخاري (۲/ ۵۶) صحیح مسلم (۹/ ۱۶۷) [2] مسند أحمد (۳/ ۳۵۰) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۱۳۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۳۹۴)