کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 564
فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہِ مِنْہُ یَومَ الْقِیَامَۃِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا )) [1] ’’مدینہ منورہ عَیر سے ثور تک حرم ہے۔ جس نے اس میں کسی بدعت کا آغاز کیا یا کسی بدعتی آدمی کو پناہ دی، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی معاوضہ نہیں لے گا۔‘‘ جس نے اس شہر میں قیام کے دوران میں کسی گناہ کا ارتکاب کیا، یا کسی مجرم و گناہ گار کو پناہ دی اور اس کی حمایت کی، اس نے اپنے آپ کو انتہائی رسواکن عذاب اور اللہ رب العالمین کے غضب میں مبتلا کرلیا۔ اس شہرِ مقدس میں نئی پیدا کی جانے والی چیزوں میں سے سب سے بدترین چیز اس شہر کی پاکیزہ فضا کو بدعات و خرافات اور محدثات کے ذریعے خراب کرنا ہے، اس کی پاک سرزمین کو بدعات کی ترویج پر مشتمل مضامین و مقالات اور شرکیہ امور کی نشر و اشاعت کرنے والے کتب و رسائل اور دیگر گناہوں اور برائیوں کو پھیلانے والی خلافِ شرع چیزیں ہیں۔ بدعت کو ایجاد کرنے اور اسے پناہ دینے والا، دونوں ہی گناہ میں برابر ہیں ۔ سید الاولین و الآخرین صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے زائرین! کیا آپ نے اس زیارتِ مدینہ منورہ سے متعلقہ احکام اچھی طرح سیکھ لیے ہیں؟ کیا اس شہر میں کیا حلال ہے اور کیا حرام، اس کا علم حاصل کر لیا ہے؟ یا پھر آپ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جو دوسروں کی دیکھا دیکھی چلتے رہتے ہیں اور سید الانام۔علیہ أفضل الصلاۃ و أزکیٰ السلام۔ کی سنت سے نابلد رہتے ہیں؟ زائرینِ کرام! ہم آپ کی خدمت میں کتاب و سنت کی تعلیمات سے منتخب کرکے چند کلمات و پیراجات پیش کررہے ہیں جو آپ کے لیے باعثِ راہنمائی اور احکامِ زیارت کے سلسلے میں سنگِ میل ہیں۔ کتاب و سنت پر عمل ہی مسلمان کو ضلالت و گمراہی اور جہالت و بدعات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ زیارتِ مسجدِ نبوی: مسجدِ نبوی کی زیارت مسنون ہے، فرض و واجب نہیں ہے، اس کا حج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۸۶۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۳۷۰)