کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 561
حکومت کو تیاری اور قوت جمع کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمْ﴾ [الأنفال: ۶۰] ’’اور ان (دشمنوں) کے لیے ہر ممکن طریقے سے افرادی قوت جمع کرو اور گھوڑے (سامانِ حرب) تیار کرکے مستعد رہو، اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمھارے دشمنوں کے دلوں میں تمھاری ہیبت و دہشت بیٹھی رہے گی۔‘‘ قرآنِ کریم میں انسان کی عزت و شرف کے مبادیات و اصول اور انسانی حقوق مقرر ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿ وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا﴾ [الإسراء: ۷۰] ’’ہم نے بنی آدم کو عزت و تکریم سے نوازا، انھیں جنگل اور دریا (عبور کرنے کی) سواریاں دیں اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انھیں فضیلت دی۔‘‘ اگر کوئی شخص قرآنِ کریم پر صحیح طرح سے عمل کرے تو اس کے لیے دنیا میں سعادت مند زندگی اور آخرت میں سدا کی نعمتوں کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾ [الملک: ۲] ’’وہ (اللہ) جس نے موت و حیات کو اس لیے پیدا فرمایا، تاکہ وہ تمھیں آزما کر دیکھے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہوتا ہے۔‘‘ جبکہ آخرت کی زندگی تو قرار کی جگہ اور متقی و پرہیزگار لوگوں کے لیے عیش و عشرت کا مقام ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ﴾ [العنکبوت: ۶۴] ’’آخرت کا گھر ہی دراصل (ہمیشہ کی) زندگی کا مقام ہے، کاش یہ لوگ سمجھتے۔‘‘ نیز فرمایا: