کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 56
کی عبادات، معاملات، سلوک اور تمام زندگی میں اسلام کے تقاضے کے مطابق ایک نئی شکل اور سانچے میں ڈھال دیتا ہے، جیسے اﷲ تعالیٰ کا مندرجہ ذیل فرمان اس پر گواہ ہے: ﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴾ [الأنعام: ۱۶۲] ’’کہہ دے: بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اﷲ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یہ ہے کلمہ ’’لاإلٰہ إلا اللّٰه ‘‘ کا معنیٰ جس سے مشرکین بِدکتے تھے اور نفرت کرتے تھے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ کے اس عظیم معنیٰ و مفہوم کی طرف تمام لوگوں کو دعوت دی اور تاریخِ انسانیت کے اس سب سے بڑے واجب اور فریضے کو ادا کرنے پر کمر بستہ ہوگئے۔ آپ علیہ السلام نے لوگوں کو اس دین قدیم کی طرف دعوت دی، جس کے ذریعے انسان ترقی کی منازل طے کرتا ہوا اعلیٰ مقام و مرتبے تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے ذریعے دائمی نعمتوں کے گھر جنت میں ہمیشہ کی سعادت مندی کے ساتھ بہر مند ہوجاتا ہے۔ آپ کے اس دعوے پر مکے کی ایک چھوٹی سی کمزور جماعت ایمان لائی، جنھیں مشرکین نے طرح طرح کی تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائیں، جیسے آگ سے جلانا اور داغنا اور تپتی دھوپ میں ننگے بدنوں کو گرم پتھروں پر اُلٹ پلٹ کرنا اور گھسیٹنا۔ مخاطبین کی تین اقسام: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو تین قسم کے لوگوں کا سامنا کرنا پڑا: 1۔ایک گروہ تو ان لوگوں کا تھا جو حق کو پہچانتے تھے، مگر تکبر کی بنیاد پر اس کا انکار کرتے تھے۔ 2۔دوسرے وہ لوگ تھے جو حسد کی آگ میں جل کر راکھ ہوئے جاتے تھے۔ 3۔اور تیسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل تھا، جو جاہل تھے اور اسی جہالت کی بنا پر گمراہی میں مبتلا تھے۔ ان تینوں گروہوں نے مل کر ایک شیطانی گروہ تشکیل دیا جو اسلام کے خلاف ایک سرکش محاذ کی حیثیت رکھتا تھا، اﷲ کی راہ سے روکنے کا جو راستہ اور وسیلہ بھی یہ لوگ پاتے تھے اس پر چل نکلتے تھے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْن﴾ [الصف: ۸] ’’وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ بجھا دیں اور اﷲ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے، اگرچہ کافر لوگ ناپسند کریں۔‘‘