کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 558
﴿ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً﴾ [النحل: ۹۷] ’’جو شخص نیک عمل کرے وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو تو ہم اسے بہترین زندگی سے بہرہ ور کریں گے اور ان کے عمل کا بہترین بدلہ دیں گے۔‘‘ اسلام میں عورت کے حقوق کے بارے میں ہم محض خالی نظریات اور بڑی بڑی کانفرنسوں کے حوالے سے گفتگو نہیں کرتے، بلکہ ہم ہر کسی کو دعوت دیتے ہیں کہ مومن خواتین ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ، سیدہ سمیہ، سیدہ اسماء بنت ابی بکر، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ، سیدہ حفصہ اور سیدہ خنساء رضی اللہ عنہن کی سیر و سوانح پڑھ کر دیکھ لیں، ہم ان کے سامنے اپنی تاریخ کے روشن صفحات کھول دیتے ہیں، تاکہ انھیں مسلمان خواتین کی زندہ مثالیں، اعلیٰ نمونے اور بے شمار مناظر دیکھنے کو ملیں۔ ہماری دعوت ہے کہ آئیں دیکھیں! اسلام نے کس طرح عورت کا مقام و مرتبہ بلند کیا ہے، اس کے مشاعر و احساسات کو طہارت و پاکیزگی بخشی ہے، اس کے سلوک و کردار کی کیسے تہذیب کی ہے اور اس کے مقاصد و تمناؤں کو کیسے بلندیوں سے دوچار کیا ہے۔ تاریخ اپنے اوراق میں نور کی سیاہی سے مومن عورتوں کے زندہ جاوید کارناموں کا تذکرہ کرے گی۔ وہ کارنامے اس بات کے سچے دلائل اور اعلیٰ ثبوت ہیں کہ ان خواتین کو کتنی ذکاوت و شرافت اور نجابت و رفعت شان حاصل تھی۔ وہ لوگ جو ان ارادوں سے اٹھے ہیں کہ وہ عورت کو اعلیٰ راہ پر چلانے میں ان کے ساتھ تعاون کریں گے، اور اپنے آپ کو وہ مصلح و ہادی سمجھتے ہیں، اپنے سوا دوسرے عزت و حشمت اور عفت و پاکدامنی کی طرف دعوت دینے والوں کو احمق و نادان سمجھتے ہیں، اور انھیں وہ جمود اور پسماندگی کا طعنہ دیتے ہیں، اگر آپ ان کے مطالبات پر ذرا گہری نظر ڈالیں گے تو پتا چلے گا کہ ان کی فکر و کردار میں کیسے فطرت سے انحرافات اور شذوذ پائے جاتے ہیں۔ ان کے نفس کس قدر گھٹیا مریض ہیں، جنھیں خواہشاتِ نفس نے اپنا قیدی بنا کر رکھا ہوا ہے، ان پر شہوت کا داعیہ غلبہ پا چکا ہے، اور انھیں ہر طرف سے باطل وسوسوں نے گھیرے میں لے رکھا ہے، تاکہ وہ امت کی قدر و قیمت سلب کرلیں، آزاد عورت سے اس کی عزت و آبرو چھین لیں اور عفیف و پاکدامن عورت سے اس کی عفت و شرف لے اڑیں۔