کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 556
اور عنصری تمییز درآئے۔ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو اس کی ماں کے حوالے سے عار دلائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے اسے اس کی ماں سے عار دلائی ہے، تم ایسے شخص ہو جس میں ابھی جاہلیت کے اثرات پائے جاتے ہیں۔‘‘[1] لیکن اس سے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی اسلامی اور جہادی فضیلت اور مقام و مرتبے کو سلب نہیں کیا گیا۔ اس طرح نسب و خون اور رگ و قوم یا قبائلی تعصب پر قائم جاہلانہ عصبیتیں دم توڑ گئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جس نے تعصب کی طرف دعوت دی وہ ہم سے نہیں، جس نے تعصب کی بنیاد پر قتال و جنگ کی وہ ہم سے نہیں اور جس کو عصبیت پر ہی موت آئی وہ بھی ہم سے نہیں ہے۔‘‘[2] مزید فرمایا ہے: ’’جس نے جاہلیت کے دور کی عصبیت کا نعرہ لگایا اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی وہ جہنم کا ایندھن ہے۔‘‘[3] سود کا خاتمہ: خطبۂ حجۃ الوداع میں نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَانَا، رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَإِنَّہٗ مَوْضُوْعٌ کُلُّہٗ )) [4] ’’سب سے پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں، وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے، وہ جس جس کے ذمے بھی ہے، سب ختم ہوا۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کو اس کے سخت نقصانات اور کثیر مفاسد کے پیشِ نظر ختم فرمایا تھا۔ یہ سود فرد کے ضمیر کو خراب کردیتا اور حیاتِ انسانی کو برباد کر دیتا ہے، کیوں کہ اس میں طمع و لالچ اور خود غرضی بھر جاتی ہے، یہ جماعتی و اجتماعی روح کو مار دیتا، عداوت و دشمنی کا باعث بنتا اور دلوں میں حقد و [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۶۱) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۱۲۱) اس کی سند میں ’’ابن أبي لبیبۃ‘‘ ضعیف ہے۔ [3] مسند أحمد (۴/ ۱۳۰) [4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۲۱۸)