کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 554
گئے اور جس کا خون کئی سالوں سے بہایا جا رہا ہے؟ اس انسان کے حقوق کہاں ہیں؟ جس کی اخلاقی تباہی، قدروں کی بربادی اور انسانیت کی بے حرمتی ایک ایسی جنگ میں کی گئی ہے جسے کوئی اخلاق جائز قرار دیتا ہے نہ کوئی دوسرا اصول ہی اُسے روا کہتا ہے۔ اسلام اور جان و مال کی حفاظت: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبۃ الوداع میں فرمایا: (( أَلَا کُلُّ شَیْیٍٔ مِنْ أَمْرِ الْجَاھِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوْعٌ )) [1] ’’سن لو! جاہلیت کے تمام امور و عادات مَیں اپنے قدموں تلے روندتا ہوں۔‘‘ عہدِ جاہلیت میں خون بہت سستا تھا، نفس انسانی کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی، قتل و غارت ایک تجارت تھی، جنگ اور خون ریزی ان کے لیے معمولی بات تھی، کیونکہ ان کے یہاں زندگی کے لیے کوئی رسالت و پیغام نہیں تھا اور نہ وہ کسی عقیدے کے مالک تھے جو انھیں ان غلاظتوں سے پاک کرتا اور نہ ان کے پاس کوئی بلند کردار و مقصد تھا جو انھیں ان گھٹیا امور سے باز رکھتا۔ اسلام آیا اور اس نے آکر اس گھٹیا اندازِ حیات کو بدلا، زندگی کو وہ بنیادیں مہیا کیں جن کی بدولت نفسِ انسانی کا احترام بڑھے اور ناحق قتل کو بشریت کے حق میں ایک جرم قرار دے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا﴾ [المائدۃ: ۳۲] ’’جس نے کسی نفس کے بدلے کے بغیر ہی کسی کو قتل کردیا یا زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے (قتل کیا) اس نے گویا تمام انسانوں کا خون کر دیا۔‘‘ عصبیت و عنصریت کی بیخ کنی: اسلام کی آمد سے پہلے تعصب و عنصریت کی جڑیں بہت گہری تھیں اور اس کی بنیادیں بڑی مضبوط تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عنصری تمییز و عصبیت کی تمام شکلوں کو اس زمین سے جڑوں سے اکھاڑ دیا، جہاں اس کی یادیں تازہ کی جاتی تھیں، اس کی تعریف میں نعرے لگائے جاتے تھے اور اس کی اساس و بنیاد پر فخر کیا جاتا تھا۔ چنانچہ اس کی جڑوں کو کاٹتے اور اس کی بیخ کنی کرتے ہوئے [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۲۱۸)