کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 551
اس پر مستزاد اولیا کی عبادت اور ان کی قبروں پر گنبد بنانا، ان کے گرد طواف کرنا، ان میں مدفون لوگوں کو مدد کے لیے پکارنا، ان کے نام کی نذریں ماننا اور انہی کی قبروں کے پاس جانور ذبح کرنا ہے۔ آج مزاروں کی کثرت ہو چکی ہے اور تصوف و طریقت کے کئی طُرق ہیں۔ ہر کسی کا اپنا مزار ہے، وہ اسی سے مدد طلب کرتے، اسی کے پاس آہ و زاری کرتے اور اسی کی پناہ لیتے ہیں۔ حقوقِ انسانی کا چارٹر: خطبۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ، کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا، فِيْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا، فِيْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا )) [1] ’’تمھارے خون، تمھارے اموال اور تمھاری آبروئیں تمھارے لیے اسی طرح حرمت والی ہیں، جس طرح تمھارا یہ دن، تمھارے اس شہر مکہ میں اور تمھارے اس ماہِ ذوالحج میں حرمت والا ہے۔‘‘ ایسے سدا بہار اصول و مبادیٔ کہ ان میں جن انسانی حقوق کا اعلان کیا گیا تھا، کوئی خود ساختہ و غیر اسلامی نظام اور بشری قانون ان تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔ جان کے تحفظ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿ وَ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ﴾ [البقرۃ: ۱۷۹] ’’قصاص میں تمھارے لیے زندگی ہے۔‘‘ مال و متاع کے تحفظ کے سلسلے میں ارشاد فرمایا: ﴿ وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَھُمَا﴾ [المائدۃ: ۳۸] ’’چور مرد اور چور عورت کا ہاتھ کاٹ دو۔‘‘ جبکہ لوگوں کی عزت و آبرو کے تحفظ کے سلسلے میں فرمایا : ﴿ اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ﴾ [النور: ۲] ’’زانی مرد اور زانی عورت (کنوارے ہیں تو) ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔‘‘ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۷۹)