کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 550
شرک پر تنبیہ: یہ ایسے مبادیٔ و اصول ہیں جن کے ساتھ ساتھ الوداع کے آنسو بھی بہائے گئے ، یہی وجہ ہے کہ اس خطبہ کا نام ہی ’’خطبۃ الوداع‘‘ ہے۔ اس میں شرک سے بھی ڈرایا گیا۔ شرک وہ خطرناک بیماری ہے جو انسانیت کو برباد کرتا اور باہمی روابط و تعلقات کو منقطع کرتا ہے۔ اسی طرح یہ شرک مصدرِ خیر سے بندے کا تعلق توڑ دیتا ہے اور اسے ان گہرے کھڈوں میں گرا دیتا ہے، جن میں وہ حرص و ہوا کا غلام اور خواہشاتِ نفس کا قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔ حج کے تمام احکام و مناسک بلکہ پورے دین کے تمام احکام جس معنیٰ کے گرد گھومتے ہیں، وہ اللہ کی توحید ہی ہے۔ اسلام دینِ توحید و عقیدہ ہے، بیت اللہ شریف کی تعمیر توحید ہی کے لیے ہوئی تھی، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَھِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ﴾ [الحج: ۲۶] ’’اور (ایک وقت تھا) جب ہم نے ابراہیم کے لیے خانہ کعبہ کو مقام مقرر کیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور طواف و قیام اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو صاف ستھرا رکھا کرو۔‘‘ اسلام میں حج اس بات کی علامت کے سوا کچھ نہیں کہ یہ لوگوں کو اعلیٰ صورت اور بلند معانی کی شکل میں اللہ کی توحید کی طرف دعوت دیتا ہے۔ امت اس بات کی سخت محتاج و ضرورت مند ہے کہ اس کے دل میں ایمان کے تقاضے راسخ کیے جائیں، امتِ اسلامیہ کے افراد میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں، جنھوں نے عقیدۂ اسلامیہ کے بجائے گمراہ نظریات و مبادیٔ کو اپنایا ہوا ہے۔ بعض اپنے قلم سے امت میں الحاد و بے دینی کا زہر گھول رہے ہیں، کوئی اپنے ائمہ میں اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے، اور ایسے لوگ یہ دعویٰ کرتے پھرتے ہیں کہ ان کے امام غیب جانتے ہیں، ان پر آسمان سے وحی اترتی ہے۔ افرادِ امت میں سے بعض لوگ اپنے بعض افراد کو مقامِ تقدیس پر فائز کرچکے ہیں اور وہ بعض لوگوں سے احکام کی پابندی ہی اٹھا چکے ہیں۔ انھوں نے بشر کو اللہ تک پہنچنے کا واسطہ بنالیا ہے۔ انہی کے ذریعے ان کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں اور انہی کے ہاتھوں ان کے گناہوں کی بخشش تک ہو جاتی ہے۔