کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 547
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ ’’مجھے معلوم نہیں جب تک کہ جبرائیل علیہ السلام سے (وحی کے ذریعے) معلوم نہ کر لوں۔‘‘[1] (9) عمومی نفی نہ کرنا: اس رشد و ہدایت والے منہج میں سے ایک اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ کسی چیز کی عمومی نفی نہ کی جائے، کیونکہ جن چیزوں کو وہ جانتا ہے وہ ان چیزوں سے کہیں کم ہیں جنھیں وہ نہیں جانتا، جیسا کہ ارشادِ الٰہی شاہد ہے: ﴿ وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا ﴾ [الإسراء: ۸۵] ’’اور تمھیں علم کا بہت تھوڑا حصہ دیا گیا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَ فَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِِیْمٌ﴾ [یوسف: ۷۶] ’’ہر ذی علم سے بڑھ کر علم والا موجود ہے۔‘‘ (10) رجوع الی الحق: علم شریعت کے قواعد و ارکان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ جیسے ہی حق ظاہر ہوجائے اور وہ چاہے کسی کے ساتھ بھی ہو، فوراً حق کی طرف رجوع کرلیا جائے۔ اہلِ حق اور اصحابِ خیر کی خصلتوں میں سے یہ ایک اہم ترین خصلت ہے۔ حق تو دراصل مومن کی گمشدہ چیز ہوتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا مکتوب گرامی معروف ہے، جس میں انھوں نے لکھا تھا: ’’آج اگر تم نے کوئی فیصلہ کیا ہے اور کل اپنی رائے بدلی اور رشد و ہدایت پائی تو اپنے پہلے فیصلے سے اس حق کی طرف رجوع سے تمھیں کوئی چیز ہرگز نہ روکے، کیونکہ حق قدیم ہے اور اسے کوئی چیز باطل نہیں کر سکتی، اور باطل پر اڑے رہنے سے حق کی طرف رجوع کر لینا ہی بہتر ہے۔‘‘[2] [1] جامع بیان العلم وفضلہ، رقم الحدیث (۱۵۷۸) [2] سنن الدارقطني (۴/ ۲۰۶) سنن البیھقي (۱۰/ ۱۱۹) نیز دیکھیں: منھاج السنۃ النبویۃ (۶/ ۷۱) التلخیص الحبیر (۴/ ۱۹۶)