کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 539
اور امانت و دیانت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ وہ ہمیشہ حق گوئی اختیار کرتے اور دروغ گوئی و کذب بیانی سے بچتے تھے۔‘‘ چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث کی معرفت کے لیے ان کا یہ مقام و مرتبہ امت کی ایک شرعی ضرورت کے لیے بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ رواۃِ حدیث (اسنادِ حدیث کے راویوں) کے حالات بیان کرتے ہیں تو اعتدال و میانہ روی سے کام لیتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ جرح و تنقید نہیں کرتے، نہ اس کی اجازت دیتے ہیں۔ جس قدر انھوں نے اجازت دی ہے وہ صرف جائز شرعی ضرورت کے لیے ہے نہ کہ کسی کی کردار گُشی کے لیے، لہٰذا ہر کسی کے لیے واجب و ضروری ہے کہ اپنی ذاتی خواہشاتِ نفس کی پیروی سے بچے اور اقوال و افعال میں تعصّب سے دور رہے کیونکہ یہ تو دلوں کی ظلمتوں اور اندھیروں، نفسوں کے تلاطم اور زبانوں کو تیز و گدلا کرنے کا دروازہ ہے، یہ فضائل کو سمیٹنے لپیٹنے اور رذائل کو عام کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَلاَ تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ﴾ [ص: ۲۶] ’’اپنی خواہشات کی پیروی نہ کریں یہ آپ کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔‘‘ اور اللہ کو راضی کیے بغیر عدل قائم نہیں ہوسکتا۔ (2) اتحاد و اتفاق: سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سب لوگ متحد و متفق ہوجائیں، خیر و بھلائی کے کاموں میں باہمی تعاون کریں، تفرقہ بازی اور اختلافات کو ہوا دینے سے گریز کریں۔ اہلِ سنت و الجماعت کا منہج و طریقہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور تفرقہ بازی و اختلافات سے بچنا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿ وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا﴾ [آل عمران ۱۰۳] ’’اور اللہ کی رسی (دین) کو مضبوطی سے پکڑے رہیں اور اختلاف و تفرقے میں مبتلا نہ ہوں۔‘‘ نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾ [آل عمران: ۱۰۵] ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا، جنھوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے