کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 538
چشمے اور بحرِ زخار سے سیراب ہو، پوری طرح منہجِ ربانی کا التزام کرے اور اپنے تمام فیصلے اسی سے کروائے تاکہ اصل غرض و غایت یعنی دنیا و آخرت کی سعادت اور امن و سلامتی کو پا سکے۔ اسلام کی راہ پر چلنے کے لیے امت کو ایسے ربانی علما اور ایسے اہلِ صدق و صفا دعاۃ و مبلّغین کی ضرورت ہے جن کے چشمۂ علم سے وہ سیراب ہوں اور جس طرف وہ لگائیں ادھر لگ جائیں، انھیں ایک قدوہ و نمونہ بنا کر تربیت پائیں، یہیں سے علم شرعی کے چند بنیادی مفاہیم و قواعد اور ستون و ارکان سامنے آتے ہیں جو ہر طالبِ علم کے ذہن میں ہونے چاہییں اور پھر ان میں سے ہر کسی پر اس کا عمل ہو اور وہ اس کے کردار کا حصہ بھی ہو۔ (1) عدل و انصاف: تمام اقوال و افعال، تصرفات و تحرکات اور حرکات و سکنات میں عدل و انصاف کو لازم پکڑا جائے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی﴾ [النحل: ۹۰] ’’بے شک اللہ، عد ل و انصاف، بھلائی و احسان اور قرابت داروں سے حسنِ سلوک و تعاون کا حکم دیتا ہے۔‘‘ ایسے ہی دوسری جگہ ارشاد ہے: ﴿وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی وَ بِعَھْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْا ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ﴾ [الأنعام: ۱۵۲] ’’اور جب تم کوئی بات کرو تو عدل و انصاف کرو، اگرچہ وہ شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا ہوا ہے اسے پورا کرو، ان امور کا اللہ نے تمھیں تاکیدی حکم فرمایا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔‘‘ اہلِ سنت و الجماعت کا منہج و طریقہ عدل و انصاف، اعتدال اور میانہ روی ہے۔ علامہ ابنِ قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’وہ ائمۂ حدیث جن کی تعریف میں پوری امت رطب اللسان ہے، جو لوگ ان کی سیرت اور احوال سے واقفیت رکھتے ہیں، وہ بہ خوبی جانتے ہیں کہ وہ لوگ صدق و صفا