کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 537
دوسرا خطبہ طلبائے علم کے لیے نصیحتیں امام و خطیب : فضيلة الشيخ حسين بن عبد العزيز آل شيخ حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: مومنو! اسلامی منہج کی نمائندگی کرنے والے عام اسلامی اصولوں میں سے ایک اہم اصول ’’جماعتی و انفرادی ذمے داری‘‘ بھی ہے، چنانچہ صحیح بخاری و مسلم میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (( کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ )) [1] ’’ تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص اپنی زیرنگرانی لوگوں کے بارے میں جواب دہ ہے۔‘‘ اسلام میں علم کا مقام و مرتبہ: اللہ کے بندو! اسلام میں علم کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ اسلام کی نظر میں یہ عظیم ذمے داری اور بہت بڑی امانت ہے۔ آج امتِ اسلامیہ تاریخ کے ایسے موڑ پر آگئی ہے کہ ہر طرف سے شر و فساد اس کی گھات میں ہیں اعداے دین اس کے پیغام کو محو کرنا چاہتے ہیں اور وہ گندے منہاج، غلط مفاہیم، زہریلے کلچر اور دشمنانہ قوت جیسے مختلف وسائل و ذرائع سے شمعِ اسلام کو بجھانے کے درپے ہیں۔ . نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا فانوس بن کر جس کی حفاظت ہوا کرے وہ چراغ کیا بجھے گا جسے روشن خدا کرے آج امتِ اسلامیہ کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ تعلیم و تربیت اور قانون و حکومت بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کی بتائی ہوئی راہ پر چلے، تاکہ اس کے اصلی [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۸۹۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۸۲۹)