کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 535
’’ بہتر ہے کہ آپ اپنے شوہر کے نکاح میں چلی جائیں، کیونکہ وہ تمھارے بچوں کا باپ ہے۔‘‘ اس عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے رجوع کا حکم دے رہے ہیں (یا یہ صرف سفارش و مشورہ ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حکم نہیں میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔‘‘ اس عورت نے عرض کی کہ اگر یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف سفارش ہے تو مجھے اپنے خاوند کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ جب کسی کی ضرورت پوری ہو جائے تو سفارش کرنے اور کام کرنے والے لوگوں کی تعریف اور شکریہ ادا کرنا ضروری ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( لَا یَشْکُرُ اللّٰہَ مَنْ لَا یَشْکُرُ النَّاسَ )) [1] ’’جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔‘‘ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( مَنْ صَنَعَ إِلَیْکُمْ مَعْرُوْفًا فَکَافِئُوْہُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوْا مَا تُکَافِئُوْنَہٗ فَادْعُوْا لَہٗ حَتّٰی تَرَوْا أَنَّکُمْ قَدْ کَافَأْتُمُوْہُ )) [2] ’’جس نے آپ پر کوئی نیکی کی، اسے اس کا اچھا بدلہ دو اور اگر اس کابدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اللہ سے اتنی دعائیں کرو کہ تمھیں یقین ہو جائے کہ اب تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔‘‘ اگر بدلہ دینے سے ہاتھ تنگ آجائے توکم از کم کھلی زبان سے اس کے لیے کثرت سے شکریہ ہی ادا کر دیں، کیونکہ نیکی و احسان کے بہترین مقامات و مواقع وہ ہیں جو اجر و شکر دونوں کے جامع ہوں۔ اللہ کاتقویٰ اختیار کرو، اپنے بھائیوں کی مدد کرو، حق و عدل کی باہم وصیت کرتے رہو اور بر و تقوے کے کاموں میں دستِ تعاون بڑھاؤ۔ بندے کے کام صرف اس کا عمل ہی آئے گا، بندہ اپنے خصالِ حمیدہ کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے، اگرچہ وہ اہلِ قبور کے ساتھ لحد ہی میں کیوں نہ پڑا ہو۔ ارشاد ِ الٰہی ہے: ﴿ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا [1] مسند أحمد (۲/ ۶۸) [2] سنن النسائي (۵/ ۸۲)