کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 532
(( مَنْ سَرَّہٗ أَنْ یُّنْجِیَہُ اللّٰہُ مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلْیُنَفِّسْ عَنْ مُّعْسِرٍ أَوْ یَضَعْ عَنْہُ )) [1] ’’جسے یہ بات اچھی لگے کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی مشکلات سے نجات دے دے تو اسے چاہیے کہ تنگدست کی مشکل آسان کرے یا اسے قرض معاف کر دے۔‘‘ جو شخص اپنے کسی بھائی کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ خدمتِ خلق انسان کے وقت اور کام میں خیر و برکت کا باعث اور مشکل امور کو آسان کرنے کا ذریعہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( مَنْ یَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ یَّسَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فِي الدُّنْیَا وَالآْخِرَۃِ )) [2] ’’ جس نے کسی تنگ حال کے لیے آسانی پیدا کی، اللہ اس کے لیے دنیا و آخرت میں آسانیاں پیدا کرے گا۔‘‘ ائمہ دین کا منہج: امتِ اسلامیہ کے بڑے بڑے اہلِ تقویٰ قائدین اور ائمہ علم و دین کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ لوگوں کی ضرورتیں پوری کیاکرتے تھے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اپنے جلیل القدر استاد شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بارے میں کہتے ہیں: ’’شیخ الاسلام لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کی بھر پور کوشش کیا کرتے تھے۔‘‘ دین کی تعلیم بھی یہی ہے کہ علم حاصل کریں، عمل و عبادت کریں اور لوگوں کے ساتھ حسنِ معاملہ کا مظاہرہ کریں۔ حسنِ خاتمہ کی ضمانت: دوسروں کے ساتھ نیکی اور حسنِ سلوک کرنے میں حسنِ خاتمہ کی ضمانت اور برے خاتمے سے نجات ہے۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: (( صَنَائِعُ الْمَعْرُوْفِ تَقِيْ مَصَارِعَ السُّوْئِ وَالآْفَاتِ وَالْھَلَکَاتِ، وَأَھْلُ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۵۶۳) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۱۹۹)