کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 531
اشرف الخلق جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کسی بھی چیز کا سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سائل کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا کرتے تھے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (( مَا سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم شَیْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا )) [1] ’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہ نہیں کی۔‘‘ کیوں کہ یہ دنیا تو اس سے بہت کمتر ہے کہ اس کے مانگنے والے کو انکار کیا جائے۔ منہجِ سلف صالحین: صحابہ کرام اور صالحینِ امت بھی اس سیدھے منہج پر چلتے رہے۔ امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ راتوں کو بیواؤں کے گھروں میں پانی پہنچایا کرتے تھے۔ ابو وائل رحمہ اللہ روزانہ محلے کی عورتوں اور بوڑھی خواتین کے پاس جاتے اور ان کی طلب پر ان کی مطلوبہ چیزیں خرید کر انھیں لا دیتے تھے۔[2] خدمتِ خلق کا صلہ: خدمتِ خلق اور کمزوروں کی مدد بندے کی اچھی فطرت، بہتر تربیت، صفاے قلب اور حسنِ سیرت و کردار کی دلیل ہے۔ ہمارا رب رحم وکرم کرنے والے بندوں پر رحم کرتا ہے، اللہ نے اپنے کچھ بندوں کو نعمتوں سے نواز رکھا ہے، تاکہ وہ بندوں کو فائدہ پہنچائیں۔ دوسروں کی مشکلات اور پریشانیوں کو دور کرنا، قیامت کی مشکلات اور اس دن کے غموں کو دور کرنے کا باعث ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ )) [3] ’’جس نے کسی مومن کو دنیا کی کسی مشکل سے نکالا، اللہ اسے اس کے بدلے میں قیامت کی مشکل سے نکالے گا۔‘‘ صحیح مسلم ہی میں ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۰۳۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۳۱۱) [2] جامع العلوم والحکم (ص: ۳۴۱) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۱۹۹)