کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 529
پہلا خطبہ تعاون باہمی اور خدمت انسانیت امام و خطيب: فضيلة الشيخ عبد المحسن القاسم حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ در حقیقت خواہشاتِ نفس اور شقاوت و بدبختی والے امور سے اجتناب کرنے کا نام ہے۔ سنتِ الٰہی: مسلمانو! اللہ نے اپنے بندوں میں عزت و شرف، جاہ و منزلت اور عبادت و بندگی کے اعتبار سے الگ الگ درجاتِ فضیلت بنائے ہیں اور انھیں ایک دوسرے کے لیے مسخر کیا ہے، تاکہ وہ دنیا میں خلافت قائم کریں اور اس کرہ ارضی کو آباد کریں، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ﴾ [الأنعام: ۱۶۵] ’’اور وہی (اللہ) ہے، جس نے تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجات بلند کیے تاکہ جو کچھ اس نے تمھیں بخشا ہے، اس میں تمھاری آزمایش کرلے۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا﴾ [الزخرف: ۳۲] ’’ہم نے دنیوی زندگی میں ان میں ان کی روزی تقسیم کی اور ایک کو دوسرے سے بلند درجات عطا کیے، تاکہ وہ ایک کسی دوسرے کو اپنا ماتحت بنا لے۔‘‘ فقیر و محتاج شخص کے شکوے میں غنی و مالدار کی آزمایش ہے، ضعیف و کمزور کے انکار میں طاقت ور کا امتحان ہے، اور بیمار کے درد سہنے میں اس کے صبر کا امتحان اور تندرست کے لیے عبرت ہے۔