کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 522
حکّام و علما کا اتحاد: اصل حل تو خود اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، پھر ان مشکلات کا حل مسلمانوں کے حکّام و اُمرا اور علما کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سب باہم شانہ بہ شانہ متحد ہو کر بشریت کے ہر خیر و بھلائی کے معاملے میں باہمی تعاون سے کام لیں، امت کو ہر مفید و نفع بخش چیز کا پتا دیں اور دین و دنیا کے اعتبار سے شر و نقصان والی چیزوں سے انھیں بچائیں۔ ان سب پر یہ عظیم ذمے داری عائد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے بعد ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ توبۂ نصوح: جب مصائب و مشکلات اور فتنے گھیر لیں تو ان کے چُنگل سے نکلنے کا سب سے پہلا راستہ ’’توبۂ نصوح‘‘ ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَتُوْبُوْٓا اِِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ [النور: ۳۱] ’’اور اے مومنو! سب کے سب اللہ کے آگے توبہ کرلو، تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔‘‘ اگر کوئی کہے کہ میرے گناہوں سے میری توبہ امتِ اسلامیہ کے حالات کو سنوارنے میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟ تو ایسے شخص سے کہا جائے گا کہ دنیا و آخرت میں ہر خیر و بھلائی کا سبب اطاعتِ الٰہی ہے اور دنیا و آخرت کی ہر عقوبت و سزا اور شر کا باعث اللہ کی معصیت و نافرمانی ہے، تمام افرادِ امت کا ہر قسم کے گناہوں سے تائب ہو جانا، خیر و بھلائی کی کثرت اور شر و برائی کی قلت کا باعث بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کو صرف اس وجہ سے ہلاک کیا تھا کہ ان میں نافرمانوں کی کثرت ہو گئی تھی اور اطاعت شعار لوگ بہت کم رہ گئے تھے۔ کبھی کبھی صرف ایک ہی فردِ واحد کی نافرمانی اس کی پوری قوم کی ہلاکت کا سبب بن جایا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری قومِ ثمود کو اس قوم کے صرف ایک شخص کے اونٹنی کو قتل کرنے کے نتیجے میں ہلاک کر دیا تھا۔ اور حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے زمانے میں جب بعض بنی اسرائیلی زنا کا ارتکاب کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے پوری قومِ بنی اسرائیل کو طاعون میں مبتلا کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ماضی میں ہلاک ہونے والی امتوں کے بارے میں فرمایا ہے: ﴿ فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہٖ ۔م ج فَمِنْھُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًاج وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ