کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 521
انفرادی طور پر اور اجتماعی شکل میں اپنے دین کے معاملے میں کوتاہی ہے، سوائے ان معدود چند لوگوں کے جن پر اللہ کی رحمت و کرم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ اَوَ لَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ﴾ [آل عمران: ۱۶۵] ’’بھلا یہ کیا بات ہے کہ جب تم پر مصیبت واقع ہوئی، حالانکہ اس سے دوچند مصیبت تمھارے ہاتھوں ان پر آ چکی ہے، تو تم چِلّا اٹھے کہ (ہائے) ہم پر آفت کہاں سے آن پڑی ، کہہ دو کہ یہ تمھاری ہی شامتِ اعمال ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ﴾ [الرعد: ۱۱] ’’بے شک اللہ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ اپنی حالت خود نہ بدلیں۔‘‘ مشکلات کا حل: امتِ اسلامیہ پر موجودہ دور کے مصائب و مشکلات سے بھی گراں حالات آئے اور اعداے اسلام نے انھیں بڑے بڑے زخم دیے، لیکن امت نے صدق و اخلاصِ علم اور ایمان و عمل کے ساتھ دین کی طرف رجوع کیا تو تاریخِ اسلام کے ان بڑے مشکل حالات میں بھی اس رجوع کے نتیجے میں امت کو امن و امان، عزت و شرف، اتحاد و اتفاق اور خیر و بھلائی میسر آئی، لیکن یہ سب دینِ حق اور شریعتِ مطہرّہ کے زیرِ سایہ آجانے کے نتیجے میں ہوا، تمام زخم مندمل ہوگئے اور بگڑے ہوئے تمام حالات سنور گئے۔ آج بھی اسلام اور مسلمانوں پر بڑے مشکل و کربناک حالات آئے ہوئے ہیں، اس امت کا یہ آخری دور بھی اسی چیز سے صلاح و فلاح پا سکتا ہے، جس کے ذریعے اس کے سلف صالحین نے پائی تھی۔ یہ بات کافی نہیں کہ مسلمان ان حالات کی ذمے داری کافروں پر ڈال کر انھیں لعنت و ملامت کر دیں، اس سے مسلمانوں کی ذمے داری پوری نہیں ہوتی، اگر مسلمان کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اپنے مصالح اور اپنی آیندہ نسلوں کے مصالح و منافع کو پیشِ نظر رکھ کر اپنی مشکلات کو خود حل نہیں کریں گے تو کیا ان کی مشکلات غیر مسلم قومیں حل کریں گی؟