کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 519
’’جو شخص نیک عمل کرے گا ، وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اسے (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔‘‘ آزمایشیں: 3۔سننِ الٰہیہ اور نظامِ الٰہی میں سے یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو بھلائی اور برائی پہنچا کر اچھائیوں اور برائیوں کے ذریعے آزماتا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ نَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَۃً وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ﴾ [الأنبیاء: ۳۵] ’’اور ہم تم لوگوں کو سختی و آسودگی میں آزمایش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں اور تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَ بَلَوْنٰھُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ﴾ [الأعراف: ۱۶۸] ’’اور ہم نے آسایشوں اور تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمایش کی، تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔‘‘ کسی مسلمان کو جب اللہ کی طرف سے خیر و بھلائی اور نعمت و رحمت پہنچتی ہے تو وہ جانتا ہے کہ یہ اس پر اللہ کا فضل اور اسی کی رحمت و احسان ہے اور وہ صرف اسی کا شکر ادا کرتا اور اسکی حمد و ثنا خوانی کرتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ پر کسی کا کوئی حق و قرض نہیں ہے ، وہ اگر کسی کو دے تو اس کا فضل ہے اور اگر وہ کسی کو نہ دے تو یہ بھی یقینا اس کا عدل ہے۔ اگر کسی مسلمان کو شر و برائی اور تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر و ہمت سے کام لیتا اور اپنے رب سے اس پر اجر و ثواب کی امید رکھتا ہے، اسے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ یہ تکلیف اس کے کسی گناہ کی وجہ سے آئی ہے، جس کا اس نے ارتکاب کیا ہے، اور اللہ چاہتا ہے کہ وہ آخرت میں اس کا درجہ بلند کردے اور اسے اللہ کی طرف سے جو مصیبت و تکلیف پہنچی ہے اس پر وہ اسے اجر و ثواب عطا کرے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ﴾ [النساء: ۷۹]