کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 516
عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ﴾ [النحل: ۱۱۶] ’’کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھ لو، سمجھ لو کہ اﷲ تعالیٰ پر بہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں۔‘‘[1] اور ارشادِ نبوی ہے: (( إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَیِّنٌ، وَبَیْنَھُمَا أُمُوْرٌ مُّشْتَبِھَاتٌ لَا یَعْلَمُھُنَّ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُھَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہِ وَعِرْضِہِ، وَمَنْ وَقَعَ فِيْ الشُّبُھَاتِ وَقَعَ فِيْ الْحَرَامِ کالرَّاعِيْ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ أَنْ یَّرْتَعَ فِیْھَا، أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی وَإِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہٗ، أَلَا وَإِنَّ فِيْ الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ سَائِرُ الْجَسَدِ وَإِنْ فَسَدَ فَسَدَ سَائِرُ الْجَسَدِ، أَلَا وَھِيَ الْقَلْبُ )) [2] ’’حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے مابین کچھ ایسے امور و اشیا ہیں جو مشتبہ ہیں، جنھیں لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی۔ جو مشتبہ اشیا سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت و آبرو کو محفوظ کر لیا اور جو مشتبہ اشیا میں وا قع ہو گیا وہ حرام میں واقع ہو گیا، جیسے وہ چرواہا جو کسی چراگاہ کے قریب اپنے جانور چرائے تو قریب ہے کہ اس کا کوئی جانور اس چراگاہ میں گھس جائے، خبردار! ہر بادشاہ کی اپنی ایک مخصوص جگہ ہوتی ہے اور اﷲ تعالیٰ کی ایسی مخصوص جگہ اس کی حرام کردہ اشیا ہیں۔ خبردار! جسم میں ایک ٹکڑا ایسا ہے کہ اگر وہ سدھر جائے تو سارا جسم ہی سدھر جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم ہی بگڑ جاتا ہے۔ خبردار ! وہ ٹکڑا دل ہے۔‘‘ الحمد للّٰه رب العالین و الصلاۃ و السلام علی رسولہ الکریم [1] إعلام الموقعین (۱/ ۳۴) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۵۹۹)