کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 514
اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَ ھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ . وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ . وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَ لَا تَکُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ . اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ ﴾ [النحل: ۱۲۵ تا ۱۲۸] ’’( اے پیغمبر ) لوگوں کو حکمت و دانائی اور اچھی نصیحت و خیر خواہی سے اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو، اور بہت اچھے طریقے سے ان سے جدال و مناظرہ کرو، جو اس کے راستے سے بھٹک گیا تمھارا رب اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو سیدھے راستے پر چلنے والے ہیں وہ ان سے بھی خوب واقف ہے۔ اور اگر تم انھیں تکلیف دینا چاہو تو صرف اتنی ہی تکلیف دو جتنی انھوں نے تمھیں دی اور اگر صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت ہی اچھا ہے، اور صبر ہی کرو اور تمھارا صبر کرنا بھی اﷲ کی مدد سے ہے اور جو بد اندیشی کرتے ہیں، ان کے بارے میں غم نہ کریں اور نہ اس سے تنگ دل ہوں، بیشک اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیز گار اور نیکو کار ہیں۔‘‘ منصبِ فتویٰ اورسہل انگاری: تبلیغِ شریعت میں امانت و صدق کے منافی اشیا میں سے ایک یہ ہے جو بعض دنیا پرست اور دولت کے پجاری لوگوں سے صادر ہوتا ہے کہ وہ دلیل صحیح کے مخالف امور کے اَ خذ و جواز کا فتویٰ دے دیتے ہیں اور شاذ اقوال کو اختیار کر لیتے ہیں جن کے اسلام اور مسلمانوں کے لیے مفاسد و ہلاکت آفرینیوں کو معمولی بصیرت رکھنے والا شخص بھی سمجھ سکتا ہے، ان اقوال و فتاوی کو وہی شخص صادر کر سکتا ہے جس کا دل اﷲ تعالیٰ کی تعظیم و اجلال اور تقویٰ و خوف سے خالی ہو اور حبِ دنیا، مخلوق سے قرب اور خالق سے دوری سے بھرا ہوا ہو۔ بعض صالحینِ امت نے کہا ہے: ’’ لوگوں میں سے شقی و بد نصیب وہ شخص ہے جو اپنی دنیا کے بدلے اپنی آخرت کو بیچ دے اور اس سے بھی بد نصیب وہ ہے جو کسی دوسرے کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت داؤ پر لگا دے۔‘‘