کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 513
اہلِ باطل کے ساتھ جدال بالحق کرو، دعوت و تبلیغ کو اپنا نصب العین بنا لو اور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکو اپنا فرضِ منصبی سمجھو اور توحید خالص کی نشر و اشاعت کو اپنی ذمے داری و ڈیوٹی بنا لو، باہم اختلاف میں نہ پڑو، جبکہ دشمن خوب متحد ہے اور جب تک باطل کو پچھاڑ نہ لو، دم نہ لو۔ ناچیز متاعِ دنیا کے پیچھے نہ لگو، یہ دعوت و تبلیغ انتہائی عظیم الشان، جلیل القدر اور بہت بھاری ذمے داری ہے۔حق کو بیان کرو، چھپاؤ نہیں۔ عمر بھر اور موت آجانے تک تمام جد و جہد اس کا م میں لگا دو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک اس ذمے داری کو نبھانے سے ہاتھ نہیں کھینچا، جب تک روح نکل کر حلق تک نہیں آگئی، اور دعوت و بیان کے فریضے سے اس و قت تک نہیں رُکے، جب تک زبان نے بولنے سے ساتھ نہیں چھوڑ دیا۔ سنن ابن ماجہ میں مروی ہے کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، یہ کہہ رہے تھے: ’’نماز کا خیال رکھو، اپنے غلاموں اور کنیزوں کا خیال رکھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک یہ کلمات کہتے رہے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک نے ساتھ نہیں چھوڑ دیا۔‘‘[1] اور مسند احمد میں ہے: ’’یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں یہ آواز رکنے لگی اور زبان الفاظ ادا کرنے سے عاجز آگئی۔‘‘[2] یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات بار بار دہراتے رہے، کیونکہ یہ باتیں ہی اتنی اہم تھیں، لیکن مرض کی شدت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب پوری طر ح کہہ نہیں پا رہے تھے۔ اے دعاۃِ حق و ہدایت! باہم شانہ بہ شانہ ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور اس فریضے کو بھر پور طریقے سے ادا کرو، اس میں کمی کوتاہی نہ کرو۔ لوگوں کو بشارتیں دو اور انھیں دین سے متنفر نہ کرو، لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، انھیں تنگی میں مبتلا نہ کرو، خود بھی خوش ہو جاؤ اور اپنے رب کا ارشاد سنو۔ فرمایا: ﴿ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ [1] مسند أحمد (۶/ ۲۹۰) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۶۲۵) [2] مسند أحمد (۶/ ۲۹۰)