کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 510
’’حق کہنا اور عظمت والے کا ذکر کرنا اسے اس کے رزق سے دور کر سکتا ہے نہ اسے اس کی موت کے پاس لے جا سکتا ہے۔‘‘ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( لَا یَحْقِرُ أَحَدُکُمْ نَفْسَہٗ )) ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے نفس کو حقیر ہر گز نہ سمجھے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بندہ اپنے نفس کو کس طرح حقیر سمجھ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ دیکھتا ہے کہ اسے یہاں اﷲ کے لیے کچھ کہنا چاہیے مگر وہ نہیں کہتا۔ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اسے کہے گا کہ تم نے فلاں فلاں موقع پر بات کیوں نہ کی؟ وہ بندہ کہے گا: میں لوگوں سے ڈر گیا تھا۔ اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں اس بات کا زیادہ مستحق ہو ں کہ تو مجھ سے ڈرتا۔‘‘[1] غرض کہ شرعی قواعد و ضوابط کی روشنی میں اﷲ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہو اور دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہو، تاکہ تمھیں اس کے فوائد و مصالح حاصل ہوں اور نقصانات و برائیاں ختم ہوں۔ امن و سلامتی اور نفع و نیکی تو دعوت و تبلیغ کرنے میں اور اﷲ کے پیغام کو چھپانے میں نہیں بلکہ بیان کرنے میں ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے : ﴿ قُلْ اِِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَلَآ اُشْرِکُ بِہٖٓ اَحَدًا . قُلْ اِِنِّیْ لاَ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلاَ رَشَدًا . قُلْ اِِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا . اِِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِسٰلـٰتِہٖ﴾ [الجن: ۲۱ تا ۲۳] ’’ کہہ دیجیے (اے نبی!) کہ میں تمھارے لیے نقصان یا نفع کسی کا کوئی اختیار نہیں رکھتا ہوں، یہ بھی کہہ دیجیے کہ اﷲ کے عذاب سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور میں اس کے سوا کہیں جائے پناہ نہیں پاتا، ہاں اﷲ کے احکام اور اس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہی میرے ذمے ہے۔‘‘ نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ [1] مسند أحمد (۳/ ۳۰) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۰۰۸)