کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 51
’’تیرا کم خواہش کرنا اور بقدرِ کفایت پر راضی اور خوش رہنا۔‘‘ قاضی شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جب بندے کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اسے اس میں تین نعمتیں حاصل ہوتی ہیں: وہ مصیبت اس کے دین میں اثر انداز نہیں ہوتی۔ وہ مصیبت جتنی ہوتی ہے، اتنی ہی رہتی ہے، اس سے تجاوز نہیں کرتی، اﷲ تعالیٰ صاحبِ مصیبت کے صبر کرنے کے سبب اس پر صبر کرنے کی اسے توفیق عطا فرما دیتا ہے۔‘‘ اﷲ کے بندو! اﷲ کی مخلوق میں سب سے بہتر انسان محمد بن عبداﷲ پر درود و سلام بھیجو، کیونکہ اﷲ عزوجل نے تمھیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا حکم جاری کیا ہے، چنانچہ اس نے محکم تنزیل میں ارشاد فرمایا ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْاعَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴾ [الأحزاب: ۵۶] ’’بے شک اﷲ اور اس کے فرشتے نبی پر صلات بھیجتے ہیں، اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! اس پر صلات بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔‘‘