کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 509
’’جو شخص کسی ایسی بات کے بارے میں سوال کیا گیا جسے وہ جانتا ہے مگر اس نے اسے چھپا لیا، اسے قیامت کے دن نارِ جہنم کی لگام ڈالی جائے گی۔‘‘ بعض اہلِ علم نے کہا ہے : ’’ جس طرح اس نے قولِ حق کے اقرار اور اظہار سے اپنی زبان کو گویا لگام دی ہے، اسی طرح قیامت کے دن اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی ۔‘‘[1] دعوت و تبلیغ کی تاکید: مسلمانو! جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے پیغام کو پوری امانت و دیانت کے ساتھ کسی خوفِ ملامت کے بغیر آگے پہنچاتے ہیں، اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کی بڑی تعریف فرمائی ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَ یَخْشَوْنَہٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا﴾ [الأحزاب: ۳۹] ’’جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے پیغامات آگے پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کے سوا دوسرے کسی سے نہیں ڈرتے اور اﷲ تعالیٰ ہی حساب کرنے کو کافی ہے۔‘‘ ایک حدیث شریف میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا: (( أَلَا لَا یَمْنَعَنَّ رَجُلًا ھَیْبَۃُ النَّاسِ أَنْ یَّقُوْلَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَہٗ )) [2] ’’خبردار! کسی شخص کو لوگوں کا ڈر اور خوف حق کہنے سے ہر گز نہ روکے، جبکہ حق کا اسے علم ہو چکا ہو۔‘‘ مسند احمد میں یہ اضافی الفاظ بھی مروی ہیں: (( فَإِنَّہُ لَا یُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا یُبَاعِدُ مِنْ رِّزْقٍ أَنْ یُّقَالَ بِحَقٍّ أَوْ یُذَکِّرَ بِعَظِیْمٍ )) [3] [1] معالم السنن للخطابي (۵/ ۲۵۱) [2] مسند أحمد (۳/ ۵) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۱۹۱) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۰۰۷) [3] مسند أحمد (۳/ ۵۰)