کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 508
کوشش کرتے رہیں اور علم و حق میں سے کوئی ذرہ برابر چیز نہ چھپائیں۔‘‘[1] مسلمانو! علم اور حق کا چھپانا اﷲ ارحم الراحمین کی رحمت سے دوری، لعنت و ملامت، دربارِ الٰہی سے دھتکارے جانے اور رسوا کن عذاب کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْھُدٰی مِنْم بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ . اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴾ [البقرۃ: ۱۵۹، ۱۶۰] ’’بیشک وہ لوگ جو کتاب میں لوگوں کے لیے ہمارے بیان کر دینے کے بعد، ہماری نازل کردہ ہدایت اور بینات اور نشانیوں کو چھپاتے ہیں، وہ ایسے لوگ ہیں جن پر اﷲ تعالیٰ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت و ملامت کرتے ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں اور بیان کر دیں، میں ان کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں بہت توبہ قبول کرنے اور بہت ہی رحم کرنے والا ہوں۔‘‘ امام قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ جو شخص بینات اور ہدایت میں سے کچھ چھپاتا ہے، وہ ملعون ہے۔‘‘[2] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’اگر کتابِ الٰہی کی یہ دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں تمھیں ایک حدیث بھی نہ سناتا، پھر انھوں نے یہ سابقہ دو آیتیں پڑھیں۔‘‘[3] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: (( مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ یَعْلَمُہُ فَکَتَمَہُ أُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِنْ نَّارٍ )) [4] [1] تفسیر ابن کثیر (۱/ ۴۳۷) [2] تفسیر القرطبي (۲/ ۱۸۴) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۳۵۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۴۹۲) [4] مسند أحمد (۲/ ۲۶۳) سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۶۵۸) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۶۴۹) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۶۶)