کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 506
بنیاد پر صدق و سچائی کے ساتھ خبر دیں۔ چاروں میں سے ہر کسی کے لیے سب سے خطرناک آفت جھوٹ اور کتمانِ علم ہے، جس نے حق کو چھپایا یا اس میں جھوٹ سے کام لیا، اس نے اﷲ کے دین و شریعت میں اس سے منازعت کی۔ ایسے شخص کے لیے اﷲ تعالیٰ اس کے دین و علم اور اس کی دنیا سے برکت اٹھا لیتا ہے۔ جو شخص صدق و سچائی اور توضیح و بیان کی راہ اپناتا ہے، اس کے علم و وقت اور دین و دنیا میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔ کتمانِ حق اور اسے چھپانے کی وجہ سے اسے گویا اس کی قوت و شوکت سے معزول کر دیا جاتا ہے اور جھوٹ کے ذریعے اسے اس کے اصل پہلو سے پھیر دیا جاتا ہے۔ سزا بھی اسی فعل کی جنس سے دی جاتی ہے کہ اہلِ صدق و بیان کو جو شان و شوکت، تعظیم و ہیبت اور عزت و شر ف حاصل ہوتا ہے، اس شخص کو ان تمام اعزازوں سے معزول کر دیا جاتا ہے اور اسے بندوں کے مابین ذلت و رسوائی اور اﷲ کی ناراضی کا لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ کتمانِ علم و حق اور جھوٹ سے کام لینے والوں میں سے جس کا چاہے گا چہرہ مسخ کر دے گا اور انھیں او ندھے منہ کر دیگا، کیونکہ انھوں نے دنیا میں حق کو مسخ کیا اور اسے اوندھا کیا تھا۔ یہ اس کی پوری پوری سزا ہے اور تیرا رب بندوں پر ظلم کرنے والا ہر گز نہیں ہے۔‘‘[1] کتمانِ علم اور اخفاے حق کی سزا: مسلمانو! یقینی علم و تحقیق حاصل ہو جانے کے بعد علم و حق کو چھپانابہت ہی مذموم حرکت و فعل ہے، اسے اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کی علامات میں سے شمار فرمایا ہے جو غضبِ الٰہی کا شکار اور گمراہ ہوئے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ [آل عمران: ۷۱] ’’ اے اہلِ کتاب! حق کو باطل کے ساتھ باہم گڈ مڈ کیوں کرتے ہو اور حق کو چھپاتے [1] إعلام الموقعین (۴/ ۱۷۴)