کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 505
کے شکوک و شبہات کو زائل کرنا، فساد و بگاڑ پیدا کرنے والوں کے راستوں میں بند باندھنا، امر بالمعروف اورنہی عن المنکرکی ذمے داری ادا کرنا، دعوت و تبلیغ کرنااور ایضاح و بیان کی ذمے داری کو نبھانا؛ تمام مسلمانوں پر حسبِ استطاعت و قدرت اور حسبِ علم و معرفت واجب و ضروری ہے۔ خصوصاً اہلِ علم و معرفت علما، فقہا، اربابِ بست و کشاد، قضا و افتا کے ذمے داروں، حکّام و اُمرا، حلال و حرام کو جاننے والے ائمہ و علما جو استنباطِ احکام کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ جن کے نور سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں اور جنکے منہاج و طریقے پر اہلِ توفیق چلتے ہیں، ان لوگوں پر تو دعوت و تبلیغِ دین اور نشر و اشاعتِ اسلام کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس کا ادا کرنا ان کے لیے از بس ضروری ہے، تاکہ دین کے مسائل و احکام کو ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ رکھا جاسکے۔ اس دین کو اپنے سلف سے وہ خلف رشید حاصل کریں گے جو غالی لوگوں کی تحریف، اہلِ باطل کی حیلہ سازیوں اور جاہلوں کی تاویلوں کا دفاع کر کے اس کا اثبات کریں گے۔[1] یہ وہ عہد و پیمان ہے جو اﷲ تعالیٰ نے علما سے لیا ہے اور فرمایا ہے: ﴿ وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَکْتُمُوْنَہٗ فَنَبَذُوْہُ وَرَآئَ ظُھُوْرِھِمْ﴾ [آل عمران: ۱۸۷] ’’اور جب اﷲ تعالیٰ نے لوگوں سے اقرار لیا، جنھیں کتاب عنایت کی گئی تھی کہ ( جو کچھ اس میں لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا اور (اس کی کسی بات کو) ہر گز نہ چھپانا۔‘‘ امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ یہ عہد و پیمان ہے جو اﷲ نے اہلِ علم سے لیا ہے کہ جسے کسی بات کا علم ہو وہ دوسروں کو سکھائے، لہٰذا علم کو چھپانے سے بچیں، کیونکہ کتمانِ علم باعثِ ہلاکت فعل ہے۔‘‘[2] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم چار زبانوں پر ظاہر ہوتا ہے: راوی کی زبان، مفتی کی زبان، حاکم و قاضی کی زبان اور گو اہ کی زبان۔ ان چار پر واجب ہے کہ وہ علم کی [1] معرفۃ الصحابۃ لأبي نعیم (۱/ ۵۳) الثقات لابن حبان (۴/ ۱۰) [2] تفسیر الطبري (۴/ ۲۰۳)