کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 499
’’الھلاک في اثنین: القنوط والعجب‘‘[1] ’’ہلاکت کا باعث دو چیزیں ہیں: ناامیدی اور فخر و تکبر یا خود پسندی۔‘‘ اعمال کی بربادی بڑی آسان ہے۔ احسان جتانے اور اذیت پہنچانے سے صدقہ و خیرات برباد ہوجاتے ہیں اور نمازِ عصر ترک کردینے سے تمام اعمال ہی برباد ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ صالحین یہ دعا بھی کیا کرتے تھے: ’’اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَسْأَلُکَ الْعَمَلَ الصَّالِحَ وَحِفْظَہٗ‘‘ ’’اے اللہ! ہم تجھ سے عملِ صالح کی توفیق اور اس کے تحفظ کی دعا کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْم بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثًا تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَکُمْ دَخَلًام بَیْنَکُمْ اَنْ تَکُوْنَ اُمَّۃٌ ھِیَ اَرْبٰی مِنْ اُمَّۃٍ ﴾ [النحل: ۹۲] ’’اور اس عورت کی طرح نہ ہو جانا جس نے بڑی محنت کرکے سوت کاتا اور پھر اسے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا، تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے سے زیادہ غالب رہے ۔ (بات یہ ہے کہ اللہ تمھیں اس سے آزماتا ہے)۔‘‘ اپنے اعمال پر خوشی اور اِترانے کی نفی کرنے کے لیے اللہ سے مدد طلب کریں اور اپنے اعمال کو معمولی سمجھیں، ان کے مقابلے میں اللہ کی نعمتوں کو یاد کریں، اور شکر نہ کرنے کی صورت میں ان کے ضائع ہو جانے اور چھن جانے سے ڈرتے رہا کریں۔ سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نافرمانی کے باوجود جنت میں داخل ہوگیا اور ایک شخص اطاعت و فرمانبرداری کے باوجود جہنم میں داخل کر دیا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ اے سعید! یہ کیسے ہوا؟ انھوں نے بتایا: ’’ایک آدمی نے گناہ و نافرمانی کی اور پھر وہ اس گناہ پر مسلسل اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا اور اس کے ڈرنے کی وجہ سے اللہ نے اسے جنت میں داخل کردیا، ایک شخص نے نیکی کی اور اسی پر مسلسل اتراتا رہا یہاں تک کہ اللہ نے اس کے اس عمل کو اسی وجہ سے برباد کردیا اور وہ جہنم میں داخل ہوگیا۔‘‘ لہٰذا اس ماہِ مبارک میں آپ نے جو نیکیاں کی ہیں، انھیں اخلاص و للہیت کے ذریعے محفوظ [1] إحیاء علوم الدین للغزالي، الکتاب التاسع، کتاب ذم الکبر والعجب۔