کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 497
بِخُلُقٍ حَسَنٍ )) وَفِيْ لَفْظٍ: (( وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ )) [1] ’’تم جہاں کہیں بھی ہو، اللہ کا تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرو اور برائی ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرو۔ وہ برائی کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ’’اگر برائی کر بیٹھو تو اس کے فوراً بعد نیکی کرو۔‘‘ اطاعت پر استقامت: اطاعت و فرمانبرداری پر استقامت، امتثالِ اوامر کی پابندی پر استمرار و دوام اور نواہی و زواجر سے اجتناب پر قائم رہنا، اللہ کے مومن بندوں کی صفاتِ حمیدہ میں سے ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ﴾ [حم السجدۃ: ۳۰] ’’بے شک جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے ، ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ اندیشہ اور غم نہ کرو بلکہ اس جنت کی بشارت سن لو، جس کا تم وعدہ دیے گئے ہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو استقامت اختیار کرنے اور اس کا ہمیشہ التزام کرنے کا حکم فرمایا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَکَ﴾ [ھود: ۱۱۲] ’’آپ اور آپ کے ساتھ توبہ کرنے والے سب لوگ استقامت اختیار کریں۔‘‘ استقامت اور ثابت قدمی خیرات و نیکیوں کی چابی، حصولِ برکات کا ذریعہ اور حالات کی استقامت کا سبب ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَۃِ لَاَسْقَیْنٰھُمْ مَّآئً غَدَقًا﴾ [الجن: ۱۶] ’’اور (اے نبی! یہ بھی کہہ دو) کہ اگر لوگ راہِ راست پر قائم رہتے تو یقینا ہم انہیں بہت وافر پانی پلاتے۔‘‘ صحیح مسلم میں حضرت سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں [1] مسند أحمد، رقم الحدیث (۲۱۳۵۴) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۹۸۷)