کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 496
رکھے اور جس نے اس مبارک وقت میں بھی کوئی برائی کی، اسے چاہیے کہ فوراً تائب ہوجائے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلے۔ راحت و سکون کا وقت: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ راحت و سکون کب حاصل ہوگا؟ انھوں نے فرمایا: ’’عند أول قد یضعھا في الجنۃ‘‘ ’’جب جنت میں پہلا قدم رکھیں گے۔‘‘ مسلسل اطاعت ونیکی میں اگر طویل زمانہ حاصل ہوجائے تو یہ صالحین کے لیے نعمت، مومنین کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک و سکونِ قلب اور محسنین کی تمنائیں پوری ہونے کا باعث ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( خَیْرُ النَّاسِ مَنْ طَالَ عُمُرُہٗ وَ حَسُنَ عَمَلُہٗ )) [1] ’’لوگوں میں سے بہترین وہ ہے، جس کی عمر طویل اور عمل نیک ہو۔‘‘ قبولِ عمل کی علامات: قبولِ عمل کی کچھ علامتیں ہیں اور توبہ و انابت الی اللہ میں نجات کی نشانیاں ہیں۔ نیکی کی قبولیت کی علامت یہ ہے کہ بندہ اس کے بعدبھی نیکی کرنے پر کاربند رہے، اور برائی کی علامت یہ ہے کہ اس کے بعد بھی بندہ برائی ہی میں مبتلا رہے۔ نیکیوں پر نیکیاں کرتے چلے جاؤ، یہ ان کی قبولیت و تکمیل کی علامت اور نفس کو اس پر قائم رکھنے کا ذریعہ ہوں گی، یہاں تک کہ نیکی کرنا نفس کی عادت اور اس کی عمدہ خصلت بن جائے گی۔ اگر برائی کا ارتکاب ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ نیکی اس کا کفارہ اور اس کے اَضرار و خطرات سے بچاؤ کا سبب بن جائے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ﴾ [ھود: ۱۱۴] ’’بے شک نیکیاں برائیوں کو بہا لے جاتی ہیں اور یہ نصیحت پکڑنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( اِتَّقِ اللّٰہَ حَیْثُمَا کُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُھَا، وَخَالِقِ النَّاسَ [1] مسند أحمد (۵/ ۴۰) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۳۳۰)