کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 490
اسرار و رموزِ عبادات: برادرانِ اسلام! اسلامی تشریعات و قوانین اور عبادات میں بے شمار اسرار و رموز اور اعلیٰ اغراض و مقاصد پائے جاتے ہیں۔ روزے کا فلسفہ اور اس کے مقاصد میں سے ایک عظیم غرض و مقصد یہ بھی ہے کہ یہ وسیع معنوں اور گہری شکل و صورت میں بندۂ مسلم کے وجدان میں اللہ کا تقویٰ و خوف پیدا کر دیتا ہے، لہٰذا اپنے روزے کو ایک تربیت گا ہ سمجھیں اور اس سے شدتِ عزم و جزم، ہر خیر و برّ کے لیے قوتِ ارادہ، کردار کی اصلاح، نفس کی تہذیب، خواہشاتِ نفس پر کنٹرول اور اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح و تزکیہ حاصل کریں۔ اپنے اعمال کی طہارت، ضمیر کی صفائی اور ہمیشہ صحیح و سیدھے ارادوں کو پائیں۔ عمدہ کردار کے لیے قوت اور اعلیٰ اخلاق میں پختگی بھی روزے سے ممکن ہے۔ اب کون ہے وہ جس نے فساد و بگاڑ کی اصلاح، خلل و مرض کے علاج معالجے اور ضعیف و کمزورکی تقویت کے لیے بھرپور سعی و جدوجہد کی ہے؟ جبکہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ جَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ﴾ [الحج: ۷۸] ’’اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو، جیسا جہاد کا حق ہے۔‘‘ ثبات و استقامت: خیر پر استقامت و پختگی اور ہدایت پر ثبات و پائیداری کی بار بار تاکید قرآنِ کریم کا ایک خاص وصف ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَکَ وَ لَا تَطْغَوْا﴾ [ھود: ۱۱۲] ’’پس آپ ثابت قدم رہیے جیساکہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں، خبردار! حد سے نہ بڑھنا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ﴾ [الحجر: ۹۹] ’’اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔‘‘ یہ ربانی وصیتیں ہیں جن کے مخاطب تمام افراد و معاشرے ہیں، جو لوگوں کو امورِ اسلام پر