کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 49
تم اس بات سے بچو کہ بلا و آزمایش کے زمانے کو طویل سمجھ کر کثرتِ دعا سے تنگ آجاؤ اور کبیدہ خاطر ہوجاؤ، بلکہ یہ سمجھو کہ تم ایک ایسی آزمایش میں مبتلا ہو، جو تمھیں صبر اور دعا پر آمادہ کرتی ہے، بہرحال اﷲ عزوجل کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ، آزمایش چاہے کتنی لمبی ہو، اس کے بعد راحت قریب ہی ہے، لہٰذا تم راہیں کھول دینے والے اﷲ رحیم و کریم سے سوال کرو، کیونکہ اس کا فرمان ہے: ﴿ وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ھُوَ﴾ [الأنعام: ۱۷] ’’اور اگر اﷲ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔‘‘ وہی ہر وہ کام کر گزرنے والا ہے، جو کام وہ چاہتا ہے اور ارادہ کرتا ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچ گئے تو پھر جا کر انھیں ایک بیٹا عطا کرنے کا وعدہ دیا گیا، جو سردار اور بلند اخلاق اور مفید لوگوں میں سے ہوگا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس وقت بیٹے کی بشارت سنائی گئی، جب ان کی بیوی حالتِ یاس کے بعد کہتی ہے: ﴿ ئَ اَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ ھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا﴾ [ھود: ۷۲] ’’کیا میں جنوں گی، جبکہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا۔‘‘ رزق میں فراوانی کا راستہ اگر تم رزق رسانی میں کچھ تاخیر اور سستی محسوس کرتے ہو تو کثرت سے توبہ اور استغفار کرو، کیونکہ لغزش ہی سزا کی موجب ہوتی ہے۔ جب تم دیکھو کہ تمھاری دعا قبول نہیں ہو رہی تو تم پھر سے اپنے معاملے کا جائزہ لو، کیونکہ ہو سکتا ہے تمھاری توبہ سچی توبہ نہ ہو، لہٰذا پہلے اسے صحیح اور درست کرو اور پھر دعا کرو، اﷲ جواد و کریم سے زیادہ سخی اور بڑا فیاض تم کسی کو نہیں پاؤ گے۔ پھر تم کسی غریب اور نادار کو تلاش کر کے اس پر صدقہ کرو، کیونکہ صدقہ بلاؤں کو ٹال دیتا ہے۔ جب تم سے آزمایشیں اور تکالیف دور ہوجائیں تو کثرت کے ساتھ اﷲ عزوجل کی تعریف اور ثنا بیان کرو، کیونکہ سلامتی کے ایام میں غافل ہوجانا بہت بڑی آفت ہے، اس لیے کہ بعض اوقات سزا موخر ہوجاتی ہے اور انسان دھوکے میں مبتلا رہتا ہے کہ وہ صحیح کام کر رہا ہے۔ عقلمند تو وہ ہے جو انجاموں پر نظر رکھتا ہے، پس تم ہمیشہ اﷲ جل و علا کی تقدیر، اس کی خلق اور تدبیر پر یقین رکھو، اس کی ڈالی ہوئی آزمایش اور اس کے حکم پر صبر کرو اور اس کے فرمان کے