کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 488
دوسرا خطبہ تربیت گاہ رمضان کے دروس و عبرتیں امام و خطیب : فضيلة الشيخ حسين بن عبد العزيز آل شيخ حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: گردشِ دوراں: کس قدر جلدی سے شب و روز بیت رہے ہیں اور کتنی تیزی سے ماہ و سال گزر رہے ہیں۔ اس دنیا کا یہی حال ہے اور یہ اسی طرح زوال پذیر اور اضمحلال کے قریب ہے۔ یہ ہمیشہ کے لیے نہیں اور نہ اس پر دل مطمئن ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوقات میں یہی انداز ہے، ہر چیز کے مختلف ادوار اور الگ الگ طور و اطوار ہوتے ہیں، ہرچیز ایک مقررہ مدت تک رہتی ہے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ﴾ [الرعد: ۳۸] ’’ہر مقررہ وعدے (دور) کے لیے ایک مقررہ مدت ہے۔‘‘ اہلِ فکر و نظر اور اربابِ عقل و دانش ان حقائق کا صحیح طور پر ادراک رکھتے ہیں اور وقت و زمانے کی اس گردش میں وہ اپنے لیے بہت ساری عبرتیں پاتے ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ لَاٰیٰتِ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ﴾ [آل عمران: ۱۹۰] ’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور شب و روز کی گردش و ہیر پھیر میں اہلِ عقل کے لیے یقینا نشانیاں ہیں۔‘‘ وداعِ رمضان المبارک: امتِ اسلامیہ! ابھی کل ہی ہم نے ماہِ رمضان کو الوداع کیا ہے۔ وہ گویا کوئی خواب و خیال تھا۔ کتنی جلدی وہ ختم ہوکر ہم سے رخصت ہوگیا ہے؟ اللہ کے فیصلوں پر تمام تعریفیں صرف اسی کے لیے ہیں، اور اس کی عطاؤں اور نعمتوں پر ہم اسی کے ہردم شکر گزار ہیں۔ جی ہاں! ماہِ رمضان تو اپنی