کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 482
نشو و نما پائے جو ماحول بد اخلاقی اور بدظنی میں معروف ہو، یہ چیز کسی کو اس کے گھر سے ملے یا دوست و احباب سے، ایسا شخص بدنیت اور بدخصلت ہوگا، جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی وہ جھوٹے ظن و گمان میں واقع ہوجاتا ہے، کیونکہ کسی چیز کی محبت اندھا اور گونگا بنا دیتی ہے۔ جب کوئی انسان کسی دوسرے کی طرف اپنی خواہشِ نفس کے تابع ہوکر مائل ہوتا ہے تو یہ میلان اس کی غلطیاں اور خطائیں اسے بھلا دیتا ہے، پھر یہی میلان اسے اس کے بارے میں حسنِ ظن پر آمادہ کر دیتا ہے، اگرچہ سامنے والا شخص فی الواقع غلطی پر ہی کیوں نہ ہو، پھر جب کوئی شخص کسی سے بغض رکھے تو وہ جیسے ہی اس کی طرف متوجہ ہو، وہ اپنے اسی میلانِ بغض کے تابع ہوتا ہے اور وہ اسے اس کے بارے میں بدظنی پر آمادہ کر دیتا ہے، وہ اس کے کسی فعل کے لیے کوئی عذر و معذرت تلاش نہیں کرتا، بلکہ وہ اس کی غلطیوں کو ٹٹولنے پر لگا رہتا ہے، اگرچہ وہ فی الواقع صحیح ہی کیوں نہ ہو۔ بعض لوگ اپنی ذات پر بڑا گھمنڈ کرتے اور خود پسندی میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ صرف اپنے آپ کو صحیح اور دوسروں کو ہمیشہ غلط سمجھتے ہیں، اپنے آپ کو بڑے پاکباز سمجھتے ہیں، اور دوسروں کی تحقیر کرتے ہیں، ان سب امور کا انجام و نتیجہ صرف بدظنی ہی نکلتا ہے۔ اس بدظنی کی وبا ہمارے مسلمانوں میں بڑے زور سے سرایت کر چکی ہے اور ایسی آفت بن چکی ہے، جو مسلم معاشرے کے افراد کے مابین پائی جانے والی داخلی وحدت اور رابطوں کو توڑ پھوڑ میں مبتلا کر رہی ہے، یہی چیز معاشرے کی قوت کو کمزور کرنے کا باعث بنتی ہے اور معاشرہ اپنے داخلی اور خارجی مسائل اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی قوت کھوہ بیٹھتا ہے۔ بدظنی، الزام تراشی اور جلدبازی کے نتیجے میں لوگوں کو ہراساں کیا گیا، قوموں پر ظلم و ستم ڈھائے گئے اور نیک و صالح لوگوں سے میل جول ترک کیا گیا، جبکہ ان میں سے کسی چیز کا بھی کوئی شرعی و جائز سبب ہرگز نہیں تھا، جیسا کہ کسی نے کہا: ’’میں صرف عداوت کو دیکھتا ہوں، اس کے اسباب کو نہیں دیکھتا۔‘‘ یہ سب کچھ اندھیرے سلسلوں، گناہ بردوش بدظنی، بری غیبت اور بہتان و افترا پردازی کا نتیجہ ہے، جبکہ ارشادِ الٰہی ہے : ﴿ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا﴾ [الأحزاب: ۵۸]