کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 481
ہیں؟ دلوں کی چھپی باتوں اور داخلی بھیدوں کا جاننا اور ان پر کسی کا محاسبہ کرنا صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے خصائص میں سے ہے جو ہر پوشیدہ و ظاہر چیز کو جانتا ہے، جبکہ انسان اپنے بھائی کا صرف ظاہر ہی جانتا ہے اور اسی کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہے۔ فاروقی طرزِ عمل: سلف صالحینِ امت تمام کدورتوں سے پاک و صاف تعلیمات اسلام پر پلے بڑھے تھے، ان کا یہی منہج و طرزِ عمل تھا۔ امام عبدالرزاق رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ’’عہدِ نبوت میں لوگ وحیِ الٰہی سے اخذ کیا کرتے تھے اور اب وحی کا سلسلہ تو منقطع ہو چکا ہے، اب ہم تمھارے ظاہری اعمال کو سامنے رکھیں گے۔ جس نے خیر و بھلائی ظاہر کی، ہم اس سے امن میں ہوں گے اور اسے اپنا قرب بخشیں گے، اب رہا معاملہ اس کے دل کا تو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دلی معاملات پر اس کا حساب اللہ تعالیٰ خود ہی کرے گا اور جس نے ہمارے سامنے اپنے شر کو ظاہر کیا، ہم اس سے امن محسوس نہیں کریں گے اور نہ اسے دوست بنائیں گے، اگرچہ وہ کہے کہ اس کا دل اچھا اور صاف ہے۔‘‘[1] مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زبان سے نکالے ہوئے الفاظ کا حساب رکھے اور ہر حکم کا بھی حساب رکھے جسے وہ صادر و نافذ کرتا ہے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی کو ہر وقت اپنے سامنے رکھے: ﴿ وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًا﴾ [الإسراء: ۳۶] ’’جس بات کی تمھیں خبر ہی نہ ہو، اس کے پیچھے مت پڑو، کیونکہ کان، آنکھ اور دل؛ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔‘‘ بدظنی کے اسباب: بدظنی کے اسباب میں سے سب سے ظاہر ترین سبب یہ ہے کہ کوئی شخص کسی ایسے ماحول میں [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۶۴۱)