کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 48
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اگر تم مخلوق سے مایوس ہوچکے ہو تو تم ان سے کسی چیز کی امید ہی نہ رکھو، تاکہ تمھارا مولا و آقا (اﷲ جل و علا) تمھیں ہر وہ چیز عطا کرے جو تم خواہش کرتے ہو۔‘‘[1] ذرا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھو! وہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک ایسی وادی میں چھوڑ کر چلے آئے، جس میں پانی تھا اور نہ زراعت، ابراہیم علیہ السلام اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اپنے اہل و عیال کو نماز اور زکات ادا کرنے کا حکم فرماتے ہیں۔ اِدھر یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں اﷲ کی طرف رجوع کرنے کی وجہ سے قید سے آزاد کرتے ہوئے بغیر کپڑوں کے ایک چٹیل میدان میں پھینک دیا گیا۔ جس شخص نے بھی اپنا معاملہ اپنے اﷲ کے سپرد کیا، اسے اپنی مراد حاصل ہوگئی، تم ذوالنون یونس علیہ السلام کی مچھلی کے پیٹ میں کی ہوئی دعا کو اکثر پڑھا کرو، جو یہ ہے: ﴿ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴾ [الأنبیاء: ۸۷] ’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں سے ہوگیا ہوں۔‘‘ نجات کا راستہ: علماے کرام فرماتے ہیں: ’’دکھوں کا مارا ہوا جو شخص یونس علیہ السلام کے مذکورہ الفاظ کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اﷲ عزوجل اس کے غم دور کر دیتا ہے۔‘‘ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ عمل مجرب ہے کہ جو شخص سات مرتبہ ﴿اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ﴾ پڑھے گا، اﷲ تعالیٰ اس کی تکالیف دور کر دے گا۔‘‘[2] اﷲ عزوجل کے سامنے اپنا دامن پھیلا دو، اسی سے اپنی امیدیں باندھ لو، اپنا معاملہ اس رحیم و کریم کے سپرد کر دو، اس سے راحت و آسایش کا سوال کرو اور مخلوق سے ناتے توڑ لو۔ اس سلسلے میں ایک بات اور توجہ طلب ہے، وہ یہ کہ دعا کے لیے قبولیت کے اوقات تلاش کرو، جیسے سجدہ، رات کا آخری پہر وغیرہ۔ [1] جامع العلوم والحکم (ص: ۱۹۷) [2] الفوائد لابن القیم (ص: ۲۰۱)