کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 478
تحفظ کرتی ہے۔ اس آیت میں کسی کے بارے میں بدظنی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر بدظنی کرنے والا کہے کہ ’’میں اسے ثابت کرنے کی کوشش کروں گا‘‘ تو اسے کہا جائے گا کہ ’’تم جاسوسی نہ کرو۔‘‘ اگر کوئی کہے کہ میں نے تجسس کیے بغیر ہی اسے ثابت کرلیاہے، تو اسے کہا جائے گا کہ ’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔‘‘ یہ مومنوں کے لیے ایک ندا ہے کہ تمھیں یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے آپ کو دوسروں کے بارے میں شکوک و شبہات اور بدگمانیاں کرنے کی کھلی چھٹی نہ دے دو۔ اس حکم سے اللہ تعالیٰ انسان کے اندرونی ضمیر کی اس بات سے تطہیر کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں بدظنی میں ملوث ہوکر گناہ میں واقع ہو۔ وہ یوں کہ اسے شکوک و شبہات سے پاک و صاف کردیتا ہے اور ضمیر کو اتنا روشن کر دیتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے لیے مودت و محبت کا ساگر بن جائے، جس کا کوئی بدظن انکار نہ کرپائے اور اس ضمیر کو یوں بَری و پاک بنا دیتا ہے جسے شکوک و شبہات ہرگز ملوث نہیں کر سکتے۔ ان شکوک و شبہات اور بدظنی کے اثرات سے پاک معاشرے میں زندگی کتنی حسین ہوجاتی ہے؟! اسلامی طرزِ عمل: بعض علما کا کہنا ہے کہ جو شخص مختلف ظنون اور گمانوں میں فرق و تمییز کرسکتا ہے کہ ان میں سے کون سے برے ہیں جن سے اجتناب کیا جائے اور کون سے دوسرے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ ہر وہ ظن جس کی کوئی صحیح نشانی اور واضح سبب معلوم نہ ہو وہ حرام (بدظنی) ہے۔ اس سے اجتناب واجب ہے، اور وہ یوں کہ جس کے بارے میں ظن و تخمین سے کام لیا جا رہا ہے، وہ ایسے لوگوں میں سے ہو جن کے بارے میں ستر و پردہ پوشی اور نیکی و بھلائی کی گواہی ملتی ہو اور ظاہر الامر میں وہ امانت دار بھی ہو، اس کے بارے میں بگاڑ اور خیانت کا سوے ظن (بدظنی) کرنا حرام ہے، جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی شخص لوگوں میں شک و شبہہ اور کھلے عام خباثتوں اور برائی میں مشہور ہو، اس کا معاملہ دوسرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی شخص کا ظاہر اچھا ہے، اس کے بارے میں بدظنی کرنا جائز ہی نہیں، البتہ جو شخص خود بدکار ہے، اس کے بارے میں بدظنی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چنانچہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے بعض بھائیوں نے لکھا جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں: ’’اپنے بھائی کے معاملے کو ہمیشہ خیر ہی پر محمول کرو، جب تک کہ آپ کے پاس کوئی